تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 13 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 13

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳ اس کی نعمت اور بخشش اس قدر ہے کہ اگر تم اس کو گنا چا ہوتو یہ تمہاری طاقت سے باہر ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا چاہوتو ہر گز گن نہ سکو گے۔سورة ابراهيم ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۱) اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۸) رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ۔قرآن مجید میں دونوں طرح دعا ئیں سکھائی گئی ہیں۔واحد کے صیغہ میں بھی جیسے رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَی الخ اور جمع کے صیغہ میں بھی جیسے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة : ٣٠٣) اور اکثر اوقات واحد متکلم سے جمع متکلم مراد ہوتی ہے۔(البدر جلد اول نمبر ۹ مورخه ۲۶ / دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۶۹) وَقَدْ مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِندَ اللهِ مَكْرُهُمْ ، وَ إِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ فَلَا تَحْسَبَنَّ اللهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۴۸ جہاں تک ان کا بس چل سکا انہوں نے مکر کیا اور ان کے سارے مکر خدا کے قبضہ میں ہیں اور اگر چہ ان کے مکر ایسے ہوں کہ جن سے پہاڑٹل جائیں۔تب بھی یہ گمان مت کر کہ ان سے خدا کے وہ وعدے مل جائیں گے کہ جو اس نے اپنے رسول کو دیئے ہیں۔خدا غالب اور بدلہ لینے والا ہے۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۵۸،۲۵۷ حاشیہ نمبر۱۱) يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ) صورت عالم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزار ششم میں زمین پر ایک انقلاب عظیم آیا ہے۔بالخصوص اس ساٹھ برس کی مدت میں کہ جو تخمیناً میری عمر کا اندازہ ہے اس قدر صریح تغیر صفیر ہستی پر ظہور پذیر ہے کہ گویا وہ دنیا ہی نہیں رہی نہ وہ سواریاں رہیں اور نہ وہ طریق تمدن رہا اور نہ بادشاہوں میں وہ وسعت اقتدار حکومت رہی نہ وہ راہ رہی اور نہ وہ مرکب۔اور یہاں تک ہر ایک بات میں جدت ہوئی کہ انسان کی پہلی طرزیں تمدن کی گویا تمام منسوخ ہو گئیں اور زمین اور اہل زمین نے ہر ایک پہلو میں گویا پیرایۂ جدید پہن