تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 11

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة ابراهيم پلید کلمہ اس درخت کے ساتھ مشابہ ہے جو زمین میں سے اکھڑا ہوا ہو یعنی فطرت انسانی اس کو قبول نہیں کرتی اور کسی طور سے وہ قرار نہیں پکڑتا۔نہ دلائل عقلیہ کی رو سے نہ قانون قدرت کی رو سے اور نہ کانشنس کی رو سے۔صرف قصہ اور کہانی کے رنگ میں ہوتا ہے اور جیسا کہ قرآن شریف نے عالم آخرت میں ایمان کے پاک درختوں کو انگور اور انار اور عمدہ عمدہ میووں سے مشابہت دی ہے اور بیان فرمایا ہے کہ اس روز وہ ان میووں کی صورت میں منتمثل ہوں گے اور دکھائی دیں گے۔ایسا ہی بے ایمانی کے خبیث درخت کا نام عالم آخرت میں زقوم رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے : اذلِكَ خَيْرٌ نُزُلاً أَمْ شَجَرَةُ الأَقُومِ (الشفت : ٢٣) - اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۱، ۳۹۲) يُثَيْتُ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَ يُضِلُّ اللهُ الظَّلِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ اللہ تعالی مومنوں کو قول ثابت کے ساتھ یعنی جو قول ثابت شدہ اور مدلل ہے اس دنیا کی زندگی اور آخرت میں ثابت قدم کرتا ہے اور جو لوگ ظلم اختیار کرتے ہیں ان کو گمراہ کرتا ہے یعنی ظالم خدا تعالیٰ سے ہدایت کی مد نہیں پاتا جب تک ہدایت کا طالب نہ ہو۔(جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲۳) وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَابِبَيْنِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارِه یہ بھی یادرکھنا چاہیئے کہ اسلامی شریعت کی رو سے خواص ملائک کا درجہ خواص بشر سے کچھ زیادہ نہیں بلکہ خواص الناس خواص الملائک سے افضل ہیں اور نظام جسمانی یا نظام روحانی میں ان کا وسائط قرار پانا اُن کی افضلیت پر دلائل سے نہیں کرتا بلکہ قرآن شریف کی ہدایت کے رو سے وہ خدام کی طرح اس کام میں لگائے گئے ہیں۔جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ یعنی وہ خدا جس نے سورج اور چاند کو تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے۔مثلاً دیکھنا چاہئے کہ ایک چٹھی رساں ایک شاہ وقت کی طرف سے اس کے کسی ملک کے صوبہ یا گورنر کی خدمت میں چٹھیاں پہنچا دیتا ہے تو کیا اس سے یہ ثابت ہوسکتا ہے کہ وہ چٹھی رساں جو اس بادشاہ اور گورنر جنرل میں واسطہ ہے گورنر جنرل سے افضل ہے سو خوب سمجھ لو یہی مثال ان وسائط کی ہے جو نظام جسمانی اور روحانی میں قادر مطلق کے ارادوں کو زمین پر پہنچاتے اور اُن کی انجام دہی ا شاید سہو کتابت سے صحیح غالباً دلالت ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔ناشر