تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 357

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۷ سورة الانبياء پھاندتی پھریں گی۔نہیں بلکہ اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ دنیا کی کل ریاستوں اور سلطنتوں کو زیر پا کرلیں گی اور کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہ کر سکے گی۔واقعات جس امر کی تفسیر کریں وہی تفسیر ٹھیک ہوا کرتی ہے۔اس آیت کے معنے خدا تعالیٰ نے واقعات سے بتا دیئے ہیں ان کے مقابلہ میں اگر کسی قسم کی سیفی قوت کی ضرورت ہوتی تو اب جیسے کہ بظاہر اسلامی دنیا کے امیدوں کے آخری دن ہیں چاہیے تھا کہ اہل اسلام کی سیفی طاقت بڑھی ہوئی ہوتی اور اسلامی سلطنتیں تمام دنیا پر غلبہ پاتیں اور کوئی ان کے مقابل پر ٹھہر نہ سکتا مگر اب تو معاملہ اس کے برخلاف نظر آتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور تمہید یا عنوان کے یہ زمانہ ہے کہ ان کی فتح اور ان کا غلبہ دنیوی ہتھیاروں سے نہیں ہو سکے گا بلکہ ان کے واسطے آسمانی طاقت کام کرے گی جس کا ذریعہ دعا ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۱٫۳اپریل ۱۹۰۳ء صفحه ۸۴) ہمیں کئی بار اس آیت کی طرف توجہ ہوئی ہے اور اس میں سوچتے ہیں کہ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ اس کا ایک تو یہ مطلب ہے کہ ساری سلطنتیں، ریاستیں اور حکومتیں ان سب کو یہ اپنے زیر کر لیں گے اور کسی کو ان کے مقابلے کی تاب نہ ہوگی۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ حلب کے معنے ہیں بلندی۔نسل کے معنے ہیں دوڑنا۔یعنی بلندی پر سے دوڑ جاویں گے۔کل عمومیت کے معنے رکھتا ہے۔یعنی ہر قسم کی بلندی کو کود جاویں گے۔بلندی پر چڑھنا قوت اور جرات کو چاہتا ہے۔نہایت بڑی بھاری اور آخری بلندی مذہب کی بلندی ہوتی ہے۔سارے زنجیروں کو انسان تو ڑ سکتا ہے مگر رسم اور مذہب کی ایک ایسی زنجیر ہوتی ہے کہ اس کو کوئی ہمت والا ہی تو ڑ سکتا ہے۔سو ہمیں اس ربط سے یہ بھی ایک بشارت معلوم ہوتی ہے کہ وہ آخر کار اس مذہب اور رسم کی بلندی کو اپنی آزادی اور جرات سے پھلانگ جاویں گے اور آخر کا ر اسلام میں داخل ہوتے جاویں گے۔الحکم جلدے نمبر ۱۳ مورخه ۱/۱۰اپریل ۱۹۰۳ صفحه ۱۴) میں نے اس آیت پر بڑی غور کی ہے۔اس کے یہی معنے ہیں کہ ہر ایک بلندی سے دوڑیں گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دو صورتیں ہیں اول یہ کہ ہر ایک سلطنت پر غالب آجاویں گے دوم یہ کہ بلندی کی طرف انسان قوت اور جرأت کے بغیر دوڑ اور چڑھ نہیں سکتا اور مذہب پر غالب آجانا بھی ایک بلندی ہی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان پر وہ زمانہ بھی آوے گا کہ مذہب کے اوپر سے بھی گزر جاویں گے یعنی اپنے اس تکلیفی مذہب۔