تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 356
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵۶ سورة الانبياء کوئی اور دقبال ہوتا جس کا فتنہ پادریوں سے زیادہ ہوتا تو خدا کی کلام میں بڑا فتنہ چھوڑ کر قیامت تک یہ دعانہ سکھلائی جاتی کہ تم عیسائیوں کے فتنہ سے پناہ مانگو اور یہ نہ فرمایا جاتا کہ عیسائی فتنہ ایسا ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں۔پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ دجالی فتنہ ایسا ہے جس سے قریب ہے کہ زمین و آسمان پھٹ جائیں۔بڑے فتنے کو چھوڑ کر چھوٹے فتنہ سے ڈرانا بالکل غیر معقول ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۴ تا ۷ ۸ حاشیه ) مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ کے بعد وہ خدا سے جنگ کریں گے اب گویا یہ خدا سے جنگ ہے۔یہ استعارہ ہے کہ جب اقبال یہاں تک پہنچ جاوے کہ کوئی سلطنت ان کے مقابل نہ ٹھہرے تو پھر خدا سے جنگ کرنی چاہیں گے خدا سے جنگ یہی ہے کہ نہ ان میں تضرع اور زاری رہے اور نہ دعا کی حقیقت پر نظر ہو بلکہ اسباب اور تدابیر پر پورا بھروسہ ہو اور قضا و قدر کا مقابلہ کیا جاوے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۷ مورخہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۲) اس وقت ضروری ہے کہ خوب غور کر کے دیکھا جاوے کہ کیا عیسائی فتنہ نہیں ہے جو مِنْ كُلِّ حَدَبٍ تنسلون کے مصداق ہو کر لاکھوں انسانوں کو گمراہ کر رہا ہے اور مختلف طریق اس نے اپنی اشاعت کے رکھے ہیں۔اب وقت ہے کہ اس سوال کا جواب دیا جاوے کہ اس فتنہ کی اصلاح والے کا نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا رکھا ہے صلیب کا زور تو دن بدن بڑھ رہا ہے اور ہر جگہ اس کی چھاؤنیاں قائم ہوتی جاتی ہیں۔مختلف مشن قائم ہو کر دور دراز ملکوں اور اقطاع عالم میں پھیلتے جاتے ہیں اس لئے اگر اور کوئی بھی ثبوت اور دلیل نہ ہوتی تب بھی طبعی طور پر ہم کو ماننا پڑتا کہ اس وقت ایک مصلح کی ضرورت ہے جو اس فساد کی آگ کو بجھائے مگر خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم کو صرف ضروریات محسوسہ مشہودہ تک ہی نہیں رکھا بلکہ اپنے رسول کی عظمت و عزت کے اظہار کے لئے بہت سی پیش گوئیاں پہلے سے اس وقت کے لئے مقرر رکھی ہوئی ہیں جن سے صاف پایا جاتا ہے کہ اس وقت ایک آنے والا مرد ہے اور اس کا نام مسیح موعود اور اس کا کام کسر صلیب ہے۔اب اس ترتیب کے ساتھ ہر ایک سلیم الفطرت کو اتنا تو ماننا پڑے گا کہ بجز اس تسلیم کے چارہ نہیں کہ کوئی مرد آسمانی آوے اور اس کا کام اس وقت کسر صلیب ہی ہونا چاہیے۔الحکم جلدے نمبر ۳مورخه ۲۴ /جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۳) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ مین كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ اس امر کے اظہار کے واسطے کافی ہے کہ یہ کل دنیا کی زمینی طاقتوں کو زیر یا کریں گی ورنہ اس کے سوا اور کیا معنے ہیں۔کیا یہ قو میں دیواروں اور ٹیلوں کو گو دتی اور