تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 358 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 358

۳۵۸ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانبياء سے بھی عبور کر جاویں گے اور اس کو پاؤں کے نیچے مسل دیویں گے اور اسی سے ہمیں ان کے اسلام میں داخل ہو جانے کی بو آتی ہے۔اب پہلی بات تو پوری ہو چکی ہے اب انشاء اللہ دوسری بات پوری ہوگی اور یہ باتیں خدا کے ارادہ کے ساتھ ہوا کرتی ہیں جب خدا کی مشیت ہوتی تو ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور دلوں کو حسبِ استعدادصاف کرتے ہیں تب یہ کام ہوا کرتے ہیں۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ /اپریل ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰۵) اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ اَنْتُمْ لَهَا وِرِ دُونَ۔) اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے بلکہ ایسی ہر ایک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو محض اس کے کسی قدر مرارت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لازم حال ہوا کرتی ہے دشنام دہی تصور کر لیتے ہیں حالانکہ دشنام اور سب اور شتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے اور اگر ہر یک سخت اور آزاردہ تقریر کو محض بوجہ اس کے مرارت اور تلخی اور ایذارسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پر ہے کیونکہ جو کچھ بتوں کی ذلت اور بت پرستوں کی حقارت اور ان کے بارہ میں لعنت ملامت کے سخت الفاظ قرآن شریف میں استعمال کئے گئے ہیں۔یہ ہر گز ایسے نہیں ہیں جن کے سننے سے بت پرستوں کے دل ہرگز خوش ہوئے ہوں بلکہ بلا شبہ ان الفاظ نے ان کے غصہ کی حالت کی بہت تحریک کی ہوگی کیا خدائے تعالیٰ کا کفار مکہ کو مخاطب کر کے یہ فرمانا کہ اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ معترض کے من گھڑت قاعدہ کے موافق گالی میں داخل نہیں ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰۹) تم اور تمہارے معبود باطل جو انسان ہو کر خدا کہلاتے رہے جہنم میں ڈالے جائیں گے (۲) دوسرا ایندھن جہنم کا بت ہیں مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں کا وجود نہ ہوتا تو جہنم بھی نہ ہوتا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۹۳) انبیاء سے پہلے تمام لوگ نیک و بد بھائی بھائی بنے ہوتے ہیں۔نبی کے آنے سے ان کے درمیان ایک تمیز پیدا ہو جاتی ہے۔سعید الگ ہو جاتے اور شقی الگ ہو جاتے ہیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخالفین کو یہ کلمہ نہ سناتے کہ اِنكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ تم اور تمہارے معبود سب جہنم کے