تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 325 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 325

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۵ سورة الانبياء آگ کا محرق بالخاصیت ہونا اپنے مقام پر۔بلکہ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ روحانی مواد ہیں جو آگ پر غالب آ کر اپنا اثر دکھاتے ہیں اور اپنے وقت اور اپنے محل سے خاص ہیں۔اس دقیقہ کو دنیا کی عقل نہیں سمجھ سکتی کہ انسان کامل خدا تعالیٰ کی روح کا جلوہ گاہ ہوتا ہے اور جب کبھی کامل انسان پر ایک ایسا وقت آ جاتا ہے کہ وہ اس جلوہ کا عین وقت ہوتا ہے تو اس وقت ہر یک چیز اس سے ایسی ڈرتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ سے۔اس وقت اس کو درندہ کے آگے ڈال دو، آگ میں ڈال دووہ اس سے کچھ بھی نقصان نہیں اٹھائے گا کیونکہ اس وقت خدا تعالیٰ کی روح اس پر ہوتی ہے اور ہر یک چیز کا عہد ہے کہ اس سے ڈرے۔یہ معرفت کا اخیری بھید ہے جو بغیر صحبت کا ملین سمجھ میں نہیں آ سکتا۔چونکہ یہ نہایت دقیق اور پھر نہایت درجہ نادر الوقوع ہے اس لئے ہر ایک فہم اس فلاسفی سے آگاہ نہیں مگر یاد رکھو کہ ہر یک چیز خدا تعالیٰ کی آواز سنتی ہے ہر یک چیز پر خدا تعالیٰ کا تصرف ہے اور ہر یک چیز کی تمام ڈوریاں خدا تعالی کے ہاتھ میں ہیں اس کی حکمت ایک بے انتہا حکمت ہے جو ہر یک ذرہ کی جڑہ تک پہنچی ہوئی ہے اور ہر یک چیز میں اتنی ہی خاصیتیں ہیں جتنی اس کی قدرتیں ہیں۔جو شخص اس بات پر ایمان نہیں لاتا وہ اس گروہ میں داخل ہے جو مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ (الانعام : ۹۲) کے مصداق ہیں اور چونکہ انسان کامل مظہر اتم تمام عالم کا ہوتا ہے اس لئے تمام عالم اس کی طرف وقتا فوقتا کھینچا جاتا ہے وہ روحانی عالم کا ایک عنکبوت ہوتا ہے اور تمام عالم اس کی تاریں ہوتی ہیں اور خوارق کا یہی سر ہے۔بر کاروبار ہستی اثری ست عارفان را ز جهان چه دید آن کس که ندید این جهان را برکات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۷ تا ۳۱ حاشیه ) قلنا ينار كوني بردا و سلما یعنی ہم نے کہا کہ اے تپ کی آگ سرد اور سلامتی ہو جا۔( نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۳۸) قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدَا وَ سَلمًا یعنی ہم نے تپ کی آگ کو کہا کہ تو سر داور سلامتی ہو جا۔(براہین احمدیہ چهار تخصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۵۲ حاشیہ نمبر۱) محقق امر ہے کہ ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خواور طبیعت پر آئے تھے مثلاً جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید سے محبت کر کے اپنے تئیں آگ میں ڈال لیا اور پھر قلنا ينار كوني بردا و سلما کی آواز سے صاف بچ گئے ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تئیں توحید کے پیار سے اس فتنہ کی آگ میں ڈال لیا جو آنجناب کی بعثت کے بعد تمام قوموں میں گویا تمام دنیا میں بھڑک اٹھی تھی اور پھر آواز وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ( المائدة :۶۸) سے جو خدا کی آواز تھی اس آگ سے صاف