تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 326
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۶ سورة الانبياء تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۷۶ حاشیه ) بچائے گئے۔یہ سچی بات ہے کہ خدائے تعالیٰ غیر معمولی طور پر کوئی کام نہیں کرتا۔اصل بات یہ ہے کہ وہ خلق اسباب کرتا ہے خواہ ہم کو ان اسباب پر اطلاع ہو یا نہ ہو۔الغرض اسباب ضرور ہوتے ہیں اس لئے شق القمر يا نَارُ كُونِي بَرْداً وَ سَلمًا “ کے معجزات بھی خارج از اسباب نہیں بلکہ وہ بھی بعض مخفی در مخفی اسباب کے نتائج ہیں اور سچے اور حقیقی سائنس پر مبنی ہیں۔کو تاہ اندیش اور تاریک فلسفہ کے دلدادہ اسے نہیں سمجھ سکتے۔مجھے تو یہ حیرت آتی ہے کہ جس حال میں یہ ایک امر مسلم ہے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا تو نادان فلاسفر کیوں ان اسباب کی بے علمی پر جو ان معجزات کا موجب ہیں اصل معجزات کی نفی کی جرات کرتا ہے۔ہاں ہمارا یہ مذہب ہے کہ اللہ تعالی اگر چاہے تو اپنے کسی بندے کو ان اسباب مخفیہ پر مطلع کر دے لیکن یہ کوئی لازم بات نہیں ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ صفحہ ۱۳۷) سید عبدالقادر جیلانی بھی ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ جب مومن مومن بننا چاہتا ہے تو ضرور ہے کہ اس پر دکھ اور ابتلاء آویں اور وہ یہاں تک آتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو قریب موت سمجھتا ہے اور پھر جب اس حالت تک پہنچ جاتا ہے تو رحمت الہیہ کا جوش ہوتا ہے تو قُلْنَا يُنَارُ كُوني برد و سلما کا حکم ہوتا ہے اصل اور آخری بات یہی ہے مگر نہ شنیدہ کہ خدا داری چه غم داری۔الحکم جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۲) میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ جو کچھ ہے دعا ہی ہے۔اس پیرانہ سالی میں گونا گوں تجارب سے یہی حاصل ہوا ہے کہ سوائے خدا کے کوئی شے نہیں نہ سفید کو سیاہ کر سکتے ہیں نہ پرانے کو نیا۔پس لازم ہے کہ تو کل کو ہاتھ سے نہ دے۔اگر چہ انسان کو بشریت کے تقاضا سے اضطراب ہوتا ہے مگر وہ خاصہ بشریت ہے اور سب انبیاء بھی اس میں شریک ہیں جیسے کہ جنگ بدر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اضطراب ہوا تھا مگر عام لوگوں میں اور انبیاؤں میں یہ فرق ہے کہ عام لوگوں کی طرح انبیاؤں کے اضطراب میں یاس کبھی نہیں ہوتی ان کو اس امر پر پورا یقین ہوتا ہے کہ خدا ضائع کبھی نہ کرے گا۔میرا یہ حال ہے کہ اگر مجھے جلتی آگ میں بھی ڈالا جاوے تو بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ ضائع نہ ہوں گا اضطراب تو ہو گا کہ آگ ہے اس سے انسان جل جاتا ہے مگر امید ہوتی ہے کہ ابھی آواز آوے گى يُنَارُ كُونِي بَرِّداً وَ سَلَمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ لیکن دوسرے لوگوں کے اضطراب میں یاس ہوتا ہے خدا پر ان کو توقع نہیں ہوتی اور یہ کفر ہے بشریت سے جو خوف خدا اور اضطراب پیش کرتی ہے ایمان اسے دفع اور ذب کرتا ہے البدر جلد ۲ نمبر ۸ مورخه ۱۳ / مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۶۱)