تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 310
۳۱۰ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة الانبياء اعْلَمُوا أَيُّهَا الأَعِزَّةُ أَنَّ السَّمَاء وَ الْأَرْضَ عزیزو! جان لو کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے اللہ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقَهُمَا الله فَكُشِطَتِ تعالیٰ نے انہیں کھول دیا۔سو اس کے حکم سے آسمان سے السَّمَاءُ بِأَمْرِه وَ صُدِعَتْ وَ نُزِّلَتْ نَوَادِرُ و پردہ بنا یا گیا اور نو دار و عجائبات کو ظاہر کر دیا گیا تا اللہ خرِجَتْ لِيَبْتَلِيَ اللهُ عِبَادَهُ إِلى أَتِي جِهَةٍ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لے کہ وہ کس طرف مائل يَمِيلُونَ۔وَ تَقَدَّمَتْ نَوَادِرُ الْأَرْضِ عَلی ہوتے ہیں اور زمین کے عجائبات آسمان کے عجائبات سے تَوَادِرِ السَّمَاءِ فَاغْتَرَ النَّاسُ بِصَنَائِعِهَا وَ پہلے لوگوں کے سامنے نمودار ہو گئے اس لئے لوگ اس عَجَائِبِ عُلُومِهَا وَغَرَائِبٍ فُنُونِهَا وَكَادُوا کے صنائع اور عجیب علوم و فنون پر فریفتہ ہو گئے اور قریب يَهْلَكُونَ۔فَنَظَرَ الرَّبُّ الْكَرِيمُ إِلَى تھا کہ وہ ہلاک ہو جائیں تب رب کریم نے زمین کی الْأَرْضِ وَ رَاهَا حَمَلُوةٌ مِنَ الْمُهْلِكَاتِ وَ طرف دیکھا کہ وہ مہلکات اور مفسدات سے بھر گئی ہے مُتَرعَةٌ مِن الْمُفْسِدَاتِ وَ رَأَى الخلق اور یہ کہ مخلوق اس کے عجائبات پر فریفتہ ہو گئی ہے اور مَفْتُونَا بِنَوَادِرِهَا وَ رَأَى الْمُتَنَظِرِينَ عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ گمراہ ہو چکے ہیں اور دوسروں کو گمراہ أَنَّهُمْ ضَلُّوا وَيُضِلُّونَ وَرَأَى فَلا سفَعَهُمُ کر رہے ہیں اور ان کے فلاسفروں کو دیکھا کہ انہوں نے اخْتَلَبُوا النَّاسَ بِعُلُومِهِمْ وَ نَوَادِرِ اپنے علوم اور نادر فنون کے ذریعہ لوگوں کے دل گرویدہ بنا فُنُونِهِمْ فَوَقَعَتْ تِلْكَ الْعُلُومُ فِي قُلُوبِ لئے ہیں۔سو یہ علوم نو جوانوں کے دلوں میں اس طور پر الأحداث يموقع عَظِيمٍ كَانَهُمْ گھر کر گئے کہ گویا ان پر جادو کر دیا گیا ہے۔پس وہ سُحِرُ والجَنبُوا إِلَى الشَّهَوَاتِ وَاسْتِيفاء خواہشات اور لذات کے اسیر ہوکر چوپائیوں اور حشرات اللّذَّاتِ وَالتَّحَقُوا بِالْبَهَائِمِ وَالْحَشَرات و الارض کے ساتھ جا شامل ہوئے۔انہوں نے اپنے رب، عَصَوْا رَبَّهُمْ وَأَبَوَيْهِمْ وَ آكَابِرَهُمْ و والدین اور بزرگوں کی نافرمانی کی اور آزادی ان کے أشربُوا في قُلُوبِهِمُ الْحُريَّةُ وَ غَلَبَتْ دلوں میں رچ گئی اور ان پر بے حیائی اور فسق و فجور غالب عَلَيْهِمُ الْخَلَاعَةُ وَالْمُجُوْنُ فَأَرَادَ اللهُ آن آگیا تب اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ اپنی کتاب کی عزت يَحْفَظَ عِزَّةَ كِتَابِهِ وَ دِيْن طلابه مِن فِتَنِ اور اپنے عشاق کے دین کو ان نوادرات کے فتنہ سے محفوظ تِلْكَ التَّوَادِرٍ كَمَا وَعَدَ في قَوْلِهِ إِنا نَحْنُ کرے جیسا کہ اس نے اپنے کلام میں وعدہ فرمایا تھا اپنا نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ اِنّا لَهُ لَحفِظُونَ - فَأَنجَزَ نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ سو اس نے اپنا الحجر :١٠