تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 311
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١١ سورة الانبياء مَعِيَ w۔وَعْدَهُ وَ أَيَّدَ عَبْدَهُ فَضْلًا مِّنْهُ وَ رَحْمَةً و وعدہ پورا کیا اور اپنے خاص فضل اور رحمت سے اپنے بندہ أوْحَى إِلَى أَنْ أَقومَ بِالإِنْذَارِ وَ الزَل معنی کی مدد فرمائی اور مجھ پر وحی نازل کی کہ میں انذار کا فریضہ نَوَادِرُ النّاتِ وَ الْعُلُومِ وَ القَائِيْدَاتِ ادا کروں۔اس نے میرے ساتھ نادر نکات اور علم اور مِنَ السَّمَاء لِيَكْسِرِيهَا نَوَادِرَ الْمُنتَظِرِينَ تائیدات آسمانی اتاریں تا اُن کے ذریعہ نصاریٰ کے وَ صَلِيْبَهُمْ وَ يَحْتَقِرَأَدَبَهُمْ وَأَدِيبَهُمُ نو اور اور ان کی صلیب کو توڑ دے اور ان کے ادب اور وَيُدحِضَ مُجَتَهُمْ وَ يُفْحِمَ بَعِيْدَهُمْ وَ ادیبوں کو ذلیل کر دے اور ان کے دلائل کو غلط ثابت قَرِيْبَهُمْ فَمَظْهَرُ نَوَادِرِ الْأَرْضِ وَ فِتَيها کرے اور ان کے دور و نزدیک کا منہ بند کر دے پس هُوَ الَّذِي سُمّى بِالرّجالِ الْمَعْهُودِ۔وَمَظْهَرُ زمینی نوا در عجائبات اور اس کے فتنوں کا مظہر وہ ہے جس کا نَوَادِرِ السَّمَاءِ وَ انْوَارِهَا هُوَ الَّذِى سُمتی نام دجال معہود ہے اور آسمان کے نوادر وانوار کا مظہر وہ ہے بِالْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ خَصْمَانِ تَقَابَلاً في جس کا نام سیح موعود ہے اور یہ دونوں فریق ایک ہی وقت زَمَنِ وَاحِدٍ فَلْيَسْتَمِعِ الْمُسْتَمِعُونَ میں ایک دوسرے کے مقابل پر آگئے۔پس سننے والے (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۷۹ تا ۴۸۱) اس بات کو خوب اچھی طرح سن لیں۔( ترجمہ از مرتب ) اِنَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا زمین و آسمان دونوں بند تھے اس زمانہ میں دونوں فَقيقتا في هَذَا الزَّمَانِ لِيُبْعَلى الصَّالِحُونَ کھل گئے تاکہ نیکوں اور بدوں کا امتحان ہو جائے اور ہر وَالظَّالِحُونَ وَكُلٌّ بِمَا عَمِلَ يُنجزی- فَأَخرج ایک گروہ اپنے اعمال کی جزا سزا پاوے پس خدا تعالیٰ اللهُ مِنَ الْأَرْضِ مَا كَانَ مِنَ الْأَرْضِ نے کچھ چیزیں زمین کی زمین سے نکالیں اور جو کچھ وَانْزَلَ مِنَ السَّمَاء مَا كَانَ مِن السَّمَوَاتِ آسمان سے اتارنا تھا اتارا۔ایک گروہ نے زمینی فریبوں الْعُلى فَفَرِيقٌ عُلِّمُوا مَكَائِدَ الْأَرْضِ سے تعلیم پائی اور دوسرے گروہ کو وہ چیزیں دیں جو انبیاء وَفَرِيقٌ أَعْطُوا مَا أُعْطِيَ الرُّسُلُ مِنَ الْهُدی کو دی تھیں اس جنگ میں آسمان والوں کو فتح حاصل وَقُدِرَ الْفَتْحُ لِلسَّمَاوِيِّينَ فِي هَذَا الْوَثْی ہوئی تم چاہو ایمان لاؤ یا نہ لاؤ خدا تعالیٰ اپنے بندہ کو وَإِن تُؤْمِنُوا اَوْ لَا تُؤْمِنُوا لَن يَتْرُكَ اللهُ جسے اصلاح خلق کے لئے بھیجا ہے ہرگز نہ چھوڑے گا اور الْعَبْدِ الَّذى اَرْسَلَه لِلْوَرى وَلَا تُضَاعُ خدا تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ اندھے کے انکار سے آفتاب کو الشَّمْسُ لإنكار الأعلى فَرِيْقَانِ يَختَصِمَانِ ضائع کرے۔دو فریق ہیں جو آپس میں جھگڑتے ہیں۔