تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 309

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠٩ سورة الانبياء نَقَلُوا الْأَقْدَامَ إِلى دُوْنِ اللهِ بَلْ فَنَوْا في بلکہ حضرت کبریا میں فنا ہو گئے سو کچھ شک نہیں کہ ان پر ان خطرَةِ الْكِبْرِيَاءِ ، فَلا شَكَ أَنَّهُمْ غَيْرُ كلمات سے کوئی ملامت نہیں۔اور ان کے ان کلمات کی مَلُومِينَ، وَلَا يَجورُ ايْبَاعُ كَلِمَاعُهُمْ پیروی جائز نہیں اور نہ یہ روا ہے کہ ان کی مشابہت کی وَحِرْصُ مُضَاهَا عِهِمْ ، بل هِيَ كَلِم يَجِبُ خواہش کی جائے بلکہ یہ ایسے کھلے ہیں کہ لیٹنے کے لائق ہیں أَنْ تُطوَى لَا أَن تُرْوَى، وَلَا يُؤَاخِذُ اللهُ إِلَّا نہ اظہار کے لائق اور خدا تعالیٰ انہیں سے مواخذہ کرتا ہے الَّذِينَ كَانُوا مِن الْمُتَعَدِينَ الْمُجْتَرِثِينَ جو عدا چالاکی سے ایسے کلمے منہ پر لاویں۔(نور الحق حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۰۱،۱۰۰) دیا۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) أو لَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ المَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيْ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ ) آسمان اور زمین دونوں بند تھے سو ہم نے ان دونوں کو کھول دیا۔برائین احمد یه چهار تخصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۱ حاشیه در حاشیه نمبر (۳) زمین و آسمان بند تھے اور حقائق و معارف پوشیدہ ہو گئے تھے سو ہم نے ان کو اس شخص کے بھیجنے سے کھول از الداو بام ، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۷۴) قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے اور حال کی تحقیقا تیں بھی اس کی مصدق ہیں کہ عالم کبیر بھی اپنے کمال خلقت کے وقت تک ایک گٹھڑی کی طرح تھا جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے اَو لَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ المَاءِ كُلَّ شَيْ : حَى - الجزو نمبر ۷ الیعنی فرماتا ہے کہ کیا کافروں نے آسمان اور زمین کو نہیں دیکھا کہ گٹھڑی کی طرح آپس میں بند تھے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو کھول دیا۔سو کافروں نے تو آسمان اور زمین بنتا نہیں دیکھا اور نہ ان کی گٹھڑی دیکھی۔لیکن اس جگہ روحانی آسمانی اور روحانی زمین کی طرف اشارہ ہے جس کی گٹھڑی کفار عرب کے رو برو کھل گئی اور فیضانِ سماوی زمین پر جاری ہو گئے۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۹۰ تا ۱۹۲ حاشیه در حاشیه ) آسمان اور زمین ایک گٹھڑی کی طرح بندھے ہوئے تھے ہم نے ان دونوں کو کھول دیا یعنی زمین نے اپنی پوری قوت ظاہر کی اور آسمان نے بھی۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۱۰)