تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 261

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۱ يَأخُتَ هَرُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَا سَوءٍ وَ مَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيَّان سورة مريم اگر استعارہ کے رنگ میں یا اور بنا پر خدا تعالیٰ نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرایا تو آپ کو اس سے کیوں تعجب ہوا جبکہ قرآن شریف بجائے خود بار بار بیان کر چکا ہے کہ ہارون نبی حضرت موسیٰ کے وقت میں تھا اور یہ مریم حضرت عیسی کی والدہ تھی جو چودہ سو برس بعد ہارون کے پیدا ہوئی تو کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان واقعات سے بے خبر ہے اور نعوذ باللہ اس نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرانے میں غلطی کی ہے۔۔۔۔اور ممکن ہے کہ مریم کا کوئی بھائی ہو جس کا نام ہارون ہو۔عدم علم سے عدم شے تو لازم نہیں آتا۔۔۔۔قرآن شریف میں تو یہ بھی لفظ نہیں کہ ہارون نبی کی مریم ہمشیرہ تھی صرف ہارون کا نام ہے نبی کا لفظ وہاں موجود نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ یہودیوں میں یہ رسم تھی کہ نبیوں کے نام بہتر کا رکھے جاتے تھے۔سوقرین قیاس ہے کہ مریم کا کوئی بھائی ہو گا جس کا نام ہارون ہو گا۔اور اس بیان کو محل اعتراض سمجھنا سراسر حماقت ہے۔چشمه مسیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۵۵ تا ۳۵۸) قَالَ اِنّى عَبْدُ اللهِ النِي الْكِتَبَ وَجَعَلَنِي نَبِيَّان الديني الكتب سے مراد فہم کتاب ہے۔ص الحکم جلد ۵ نمبر ۴۱ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۱ ء صفحه ۴) وَجَعَلَنِي مُبرَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَ أَوصينِى بِالصَّلوةِ وَالزَّكوة مَا دُمْتُ حَيَان و برا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيَّان (وَجَعَلَنِي مُبْرَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ مسیح کو خدا نے ایسی برکت دی ہے کہ جہاں جائے گا وہ مبارک ہوگا۔۔۔۔۔اس نے خدا سے بڑی برکت پائی اور وہ فوت نہ ہوا جب تک اس کو ایک شاہانہ عزت نہ دی گئی۔(مسیح ہندوستان میں، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۵۴) حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے نماز پڑھتارہ اور زکوۃ دیتا رہ اور اپنی والدہ پر احسان کرتارہ جب تک تو زندہ ہے۔اب ظاہر ہے کہ ان تمام تکلیفات شرعیہ کا آسمان پر بجالا نا محال ہے اور جو شخص مسیح کی نسبت یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ زندہ مع جسدہ آسمان کی طرف اُٹھایا گیا اس کو اس آیت موصوفہ بالا کے منشاء کے موافق یہ بھی مانا پڑے گا کہ تمام احکام شرعی جو انجیل اور توریت کی رو سے انسان پر واجب العمل