تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 260

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۰ و، ج سورة مريم قَالَ كَذلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَى هَيْنٌ وَ لِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِنَا وَكَانَ أَمْرًا مَقْضِيَّان وَلِنَجْعَلَةَ ايَةً لِلنَّاسِ۔۔۔۔اور ہم اس کو لوگوں کے لئے رحمت کا نشان بنا ئیں گے اور یہ امر پہلے ہی سے قرار پایا ہوا تھا۔( براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۶ حاشیه در حاشیہ نمبر ۳) حضرت مسیح کے وقت میں یہودیوں میں ایک فرقہ صدوقی نام تھا جو قیامت سے منکر تھے۔پہلی کتابوں میں بطور پیشین گوئی کے لکھا گیا تھا کہ ان کو سمجھانے کے لئے مسیح کی ولادت بغیر باپ کے ہوگی اور یہ ان کے لئے ایک نشان قرار دیا گیا تھا جیسا کہ اللہ جل شانہ دوسری آیت میں فرماتا ہے : وَلِنَجْعَلَةُ آيَةً لِلنَّاسِ۔اس جگہ الناس سے مراد وہی صدوقی فرقہ ہے جو اس زمانہ میں بکثرت موجود تھا۔چونکہ توریت میں قیامت کا ذکر بظاہر کسی جگہ معلوم نہیں ہوتا اس لئے یہ فرقہ مردوں کے جی اٹھنے سے بکلی منکر ہو گیا تھا۔اب تک بائیبل کے بعض صحیفوں میں موجود ہے کہ مسیح اپنی ولادت کے رو سے بطور عِلْمُ السَّاعَةِ کے ان کے لئے آیا تھا۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۹،۱۶۸) فَاجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلى جِذْعِ النَّخْلَةِ ، قَالَتْ لَيْتَنِي مِنْ قَبْلَ هَذَا وَ كُنْتُ نسيا منسيات میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الہی اور مسیح موعود ہونے کا دعوی تھا اسی کی نسبت میری گھبراہٹ ظاہر کرنے کے لئے یہ الہام ہوا تھا۔فَأَجَاءَهُ الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ - قَالَ يَا لَيْتَنِي مِن قَبْلَ هُدًا وَ كُنْتُ نَسْيًا مَنْیا۔مخاض سے مراد اس جگہ وہ امور ہیں جن سے خوفناک نتائج پیدا ہوتے ہیں اور جذْعِ النَّخْلَةِ سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کی اولا د مگر صرف نام کے مسلمان ہیں۔با محاورہ ترجمہ یہ ہے کہ دردانگیز دعوت جس کا نتیجہ قوم کا جانی دشمن ہو جانا تھا اس مامور کو قوم کے لوگوں کی طرف لائی جو کھجور کی خشک شاخ یا جڑ کی مانند ہیں۔تب اُس نے خوف کھا کر کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مرجاتا (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۶۸، ۲۹ حاشیه ) اور بھولا بسرا ہو جاتا۔