تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 262 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 262

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۶۲ سورة مريم ہوتے ہیں وہ حضرت مسیح پر اب بھی واجب ہیں حالانکہ یہ تکلیف مالا يطاق ہے۔عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ یہ حکم دیوے کہ اے عیسی جب تک تو زندہ ہے تیرے پر واجب ہے کہ تو اپنی والدہ کی خدمت کرتا رہے اور پھر آپ ہی اس کے زندہ ہونے کی حالت میں ہی اس کو والدہ سے جدا کر دیوے اور تا بحیات زکوۃ کا حکم دیوے اور پھر زندہ ہونے کی حالت میں ہی ایسی جگہ پہنچا دے جس جگہ نہ وہ آپ زکوۃ دے سکتے ہیں اور نہ زکوۃ کے لئے کسی دوسرے کو نصیحت کر سکتے ہیں اور صلوۃ کے لئے تاکید کرے اور جماعت مومنین سے دور پھینک دیوے جن کی رفاقت صلوٰۃ کی تکمیل کے لئے ضروری تھی کیا ایسے اُٹھائے جانے سے بجز بہت سے نقصان عمل اور ضائع ہونے حقوق عباد اور فوت ہونے خدمت امر معروف اور نہیں منکر کے کچھ اور بھی فائدہ ہوا اگر یہی اٹھارہ سوا کا نوے برس زمین پر زندہ رہتے تو ان کی ذات جامع البرکات سے کیا کیا نفع خلق اللہ کو پہنچتا لیکن ان کے اوپر تشریف لے جانے سے بجز اس کے اور کون سا نتیجہ نکلا کہ ان کی امت بگڑ گئی اور وہ خدمات نبوت کے بجالانے سے بکلی محروم رہ گئے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۳۱، ۳۳۲) اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ انجیلی طریق پر نماز پڑھنے کے لئے حضرت عیسی کو وصیت کی گئی تھی اور وہ آسمان پر عیسائیوں کی طرح نماز پڑھتے ہیں اور حضرت سخی ان کی نماز کی حالت میں ان کے پاس یونہی پڑے رہتے ہیں مردے جو ہوئے اور جب دنیا میں حضرت عیسی آئیں گے تو برخلاف اس وصیت کے امتی بن کر مسلمانوں کی طرح نماز پڑھیں گے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۲۸) آیت وَ أَوصينِي بِالصَّلوةِ وَالزَّكوة مَا دُمْتُ حَيًّا سے موت ثابت ہوئی کیونکہ کچھ شک نہیں کہ جیسا کہ کھانے پینے سے اب حضرت عیسی علیہ السلام بروئے نص قرآنی معطل ہیں ایسا ہی دوسرے افعال جسمانی زکوۃ اور صلوٰۃ سے بھی معطل ہیں بلکہ زکوۃ تو علاوہ جسمانیت کے مال کو بھی چاہتی ہے اور آسمان پر روپیہ پیسہ ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۱۴۰) ہونا معلوم۔خدا نے مجھے حکم دے رکھا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں نماز پڑھتار ہوں اور زکوۃ دوں اب جتلاؤ کہ آسمان پر وہ زکوۃ کس کو دیتے ہیں۔(تحفہ گولر و یہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۹۱) پہلی حالت انسان کی نیک بختی کی ہے کہ والدہ کی عزت کرے۔اویس قرنی کے لئے بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یمن کی طرف کو منہ کر کے کہا کرتے تھے کہ مجھے یمن کی طرف سے خدا کی خوشبو آتی