تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 221
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۱ سورة الكهف الْمُسْلِمِينَ مِنْ صَوْلِهِمْ بایات دعاؤں کے ذریعہ سے جو فرشتوں کو آسمان سے زمین پر کھینچ بَيِّنَاتٍ وَأَدْعِيَةٍ تَجْذِبُ الْمَلَائِكَةَ إِلَى لاتی ہیں محفوظ کروں اور تا میں ان لوگوں کے لئے ایک دیوار الْأَرْضِ مِنَ السَّمَاوَاتِ، وَلِأَجْعَلَ بنادوں جو اطاعت گزار ہیں۔( ترجمہ از مرتب) سَنَّا لِقَوْمٍ يُسْلِمُونَ (تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۲۵،۱۲۴) وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنِ حَملة۔پس واضح ہو کہ آیت قرآنی بہت سے اسرار اپنے اندر رکھتی ہے جس کا احاطہ نہیں ہوسکتا اور جس کے ظاہر کے نیچے ایک باطن بھی ہے۔لیکن وہ معنے جو خدا نے میرے پر ظاہر فرمائے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ آیت مع اپنے سابق اور لاحق کے مسیح موعود کے لئے ایک پیشگوئی ہے اور اس کے وقت ظہور کو مشخص کرتی ہے۔اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسیح موعود بھی ذوالقرنین ہے کیونکہ قرن عربی زبان میں صدی کو کہتے ہیں۔اور آیت قرآنی میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ وعدہ کا مسیح جو کسی وقت ظاہر ہوگا اُس کی پیدائش اور اس کا ظاہر ہونا دوصدیوں پر مشتمل ہوگا چنانچہ میرا وجود اسی طرح پر ہے۔میرے وجود نے مشہور و معروف صدیوں میں خواہ ہجری ہیں خواہ مسیحی خواہ بکرماجیتی اس طور پر اپنا ظہور کیا ہے کہ ہر جگہ دو صدیوں پر مشتمل ہے صرف کسی ایک صدی تک میری پیدائش اور ظہور ختم نہیں ہوئے۔غرض جہاں تک مجھے علم ہے میری پیدائش اور میرا ظہور ہر ایک مذہب کی صدی میں صرف ایک صدی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دو صدیوں میں اپنا قدم رکھتا ہے۔پس ان معنوں سے میں ذوالقرنین ہوں۔چنانچہ بعض احادیث میں بھی صحیح موعود کا نام ذوالقرنین آیا ہے۔اُن حدیثوں میں بھی ذوالقرنین کے یہی معنے ہیں۔جو میں نے بیان کئے ہیں۔اب باقی آیت کے معنے پیشگوئی کے لحاظ سے یہ ہیں کہ دنیا میں دو قو میں بڑی ہیں جن کو مسیح موعود کی بشارت دی گئی ہے۔اور مسیحی دعوت کے لئے پہلے انہیں کا حق ٹھہرایا گیا ہے۔سو خدا تعالیٰ ایک استعارے کے رنگ میں اس جگہ فرماتا ہے کہ مسیح موعود جو ذوالقرنین ہے اپنی سیر میں دو قوموں کو پائے گا۔ایک قوم کو دیکھے گا کہ وہ تاریکی میں ایک ایسے بدبودار چشمے پر بیٹھی ہے کہ جس کا پانی پینے کے لائق نہیں اور اس میں سخت بد بودار کیچڑ ہے اور اس قدر ہے کہ اب اس کو پانی نہیں کہہ سکتے۔یہ عیسائی قوم ہے جو تاریکی میں ہے جنہوں نے مسیحی چشمہ کو اپنی غلطیوں سے بد بودار کیچڑ میں ملا دیا ہے۔دوسری سیر میں مسیح موعود نے جو ذوالقرنین ہے ان لوگوں کو دیکھا جو آفتاب کی جلتی ہوئی دھوپ میں بیٹھے ہیں اور آفتاب کی دھوپ اور اُن میں کوئی اوٹ