تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 222
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۲ سورةالكهف نہیں۔اور آفتاب سے انہوں نے کوئی روشنی تو حاصل نہیں کی اور صرف یہ حصہ ملا ہے کہ اس سے بدن اُن کے جل رہے ہیں اور اوپر کی جلد سیاہ ہو گئی ہے۔اس قوم سے مراد مسلمان ہیں جو آفتاب کے سامنے تو ہیں مگر بجر جلنے کے اور کچھ ان کو فائدہ نہیں ہوا۔یعنی اُن کو توحید کا آفتاب دیا گیا مگر بجز جلنے کے آفتاب سے انہوں نے کوئی حقیقی روشنی حاصل نہیں کی۔یعنی دینداری کی سچی خوبصورتی اور سچے اخلاق وہ کھو بیٹھے اور تعصب اور کینہ اور اشتعال طبع اور درندگی کے چلن ان کے حصہ میں آگئے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پیرا یہ میں فرماتا ہے کہ ایسے وقت میں مسیح موعود جو ذوالقرنین ہے آئے گا جبکہ عیسائی تاریکی میں ہوں گے اور اُن کے حصہ میں صرف ایک بد بودار کیچڑ ہوگا۔جس کو عربی میں کیا کہتے ہیں۔اور مسلمانوں کے ہاتھ صرف خشک توحید ہوگی جو تعصب اور درندگی کی دھوپ سے جلے ہوں گے۔اور کوئی روحانیت صاف نہیں ہوگی۔اور پھر مسیح جو ذوالقرنین ہے ایک تیسری قوم کو پائیں گے جو یا جوج ماجوج کے ہاتھ سے بہت تنگ ہوگی اور وہ لوگ بہت دیندار ہوں گے اور اُن کی طبیعتیں سعادتمند ہوں گی۔اور وہ ذوالقرنین سے جو مسیح موعود ہے مدد طلب کریں گے تا یا جوج ماجوج کے حملوں سے بچ جائیں اور تا وہ اُن کے لئے سد روشن بنادے گا۔یعنی ایسے پختہ دلائل اسلام کی تائید میں ان کو تعلیم دے گا۔یا جوج ماجوج کے حملوں کو قطعی طور پر روک دے گا۔اور اُن کے آنسو پونچھے گا۔اور ہر ایک طور سے ان کی مدد کرے گا۔اور اُن کے ساتھ ہوگا۔یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو مجھے قبول کرتے ہیں۔یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے۔اور اس میں صریح طور پر میرے ظہور اور میرے وقت اور میری جماعت کی خبر دی گئی ہے۔لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۰۰،۱۹۹) اس سوال کے جواب میں کہ قرآن میں لکھا ہے کہ ذوالقرنین نے آفتاب کو دلدل میں غروب ہوتے پایا۔فرمایا:) یہ صرف ذوالقرنین کے وجدان کا بیان ہے آپ بھی اگر جہاز میں سوار ہوں تو آپ کو بھی معلوم ہو کہ سمندر سے ہی آفتاب نکلا اور سمندر میں ہی غروب ہوتا ہے۔قرآن نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ علم ہیئت کے موافق بیان کیا جاتا ہے ہر روز صد با استعارہ بولے جاتے ہیں مثلاً اگر آپ یہ کہیں کہ آج میں ایک رکابی پلاؤ کی کھا کر آیا ہوں تو کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ آپ رکابی کو کھا گئے، اگر آپ یہ کہیں کہ فلاں شخص شیر ہے کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ اس کے پنجے شیر کی طرح اور ایک دم بھی ضرور ہوگی۔انجیل میں لکھا ہے کہ وہ زمین کے کنارہ سے سلیمان کی حکمت سننے آئے حالانکہ زمین گول ہے کنارہ کے کیا معنے۔پھر یسعیاہ باب ۱۴/۷ میں یہ