تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 203
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۳ سورة الكهف ہو سکتا ہے۔بلکہ خدائے کی قیوم اس بات پر قادر ہے کہ امت مرحومہ محمدیہ کے افراد خاصہ کو اس سے بھی بہتر و زیادہ تر باطنی نعمتیں عطا فرما دے اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرة : ١٠٧) - براہینِ احمدیہ چہار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۹۳ تا ۲۹۵ حاشیه در حاشیه نمبرا) مولوی غلام علی صاحب اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری اور مولوی عبدالعزیز صاحب اور بعض دوسرے مولوی صاحبان اس قسم کے الہام سے کہ جو رسولوں کے وحی سے مشابہ ہے باصرار تمام انکار کر رہے ہیں بلکہ ان میں سے بعض مولوی صاحبان مجانین کے خیالات سے اُس کو منسوب کرتے ہیں۔اور اُن کی اس بارہ میں حجت یہ ہے کہ اگر یہ الہام حق اور صحیح ہے تو صحابہ جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پانے کے لئے احق اور اولی تھے حالانکہ اُن کا پانا متفق نہیں۔اب یہ احقر عباد عرض کرتا ہے کہ اگر یہ اعتراض جو شہاب الدین موحد نے مولوی صاحبوں کی طرف سے بیان کیا ہے حقیقت میں انہیں کے مونہہ سے نکلا ہے تو بجواب اس کے ہر یک طالب صادق کو اور نیز حضرات محدوحہ کو یا درکھنا چاہیئے کہ عدم علم سے عدم ھے لازم نہیں آتا۔کیا ممکن نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس قسم کے الہامات پائے ہوں مگر مصلحت وقت سے عام طور پر ان کو شائع نہیں کیا اور خدائے تعالیٰ کو ہر یک نئے زمانہ میں نئے نئے مصالحہ ہیں پس نبوت کے عہد میں مصلحت ربانی کا یہی تقاضا تھا کہ جو غیر نبی ہے اُس کے الہامات نبی کی وحی کی طرح قلمبند نہ ہوں تا غیر نبی کا نبی کے کلام سے تداخل واقعہ نہ ہو جائے لیکن اُس زمانہ کے بعد جس قدر اولیاء اور صاحب کمالات باطنیہ گزرے ہیں اُن سب کے الہامات مشہور و متعارف ہیں کہ جو ہر یک عصر میں قلمبند ہوتے چلے آئے ہیں اس کی تصدیق کے لئے شیخ عبد القادر جیلانی اور مجددالف ثانی کے مکتوبات اور دوسرے اولیاء اللہ کی کتابیں دیکھنی چاہئیں کہ کس کثرت سے ان کے الہامات پائے جاتے ہیں بلکہ امام ربانی صاحب اپنے مکتوبات کی جلد ثانی میں جو مکتوب پنجاه و یکم ہے اس میں صاف لکھتے ہیں کہ غیر نبی بھی مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت سے مشرف ہو جاتا ہے اور ایسا شخص محدث کے نام سے موسوم ہے اور انبیاء کے مرتبہ سے اُس کا مرتبہ قریب واقعہ ہوتا ہے ایسا ہی شیخ عبد القادر جیلانی صاحب نے فتوح الغیب کے کئی مقامات میں اس کی تصریح کی ہے۔اور اگر اولیاء اللہ کے ملفوظات اور مکتوبات کا تجسس کیا جائے تو اس قسم کے بیانات ان کے کلمات میں بہت سے پائے جائیں گے اور اُمتِ محمدیہ میں محمد حمیت کا منصب اس قدر بکثرت ثابت ہوتا ہے جس سے انکار کرنا بڑے غافل اور بے خبر کا کام ہے۔اس امت میں آج تک ہزار ہا اولیاء اللہ صاحب