تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 204

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۰۴ سورةالكهف کمال گزرے ہیں جن کی خوارق اور کرامات بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ثابت اور متحقق ہو چکی ہیں اور جو شخص تفتیش کرے اس کو معلوم ہوگا کہ حضرت احدیت نے جیسا کہ اس امت کا خیر الامم نام رکھا ہے ایسا ہی اس امت کے اکابر کو سب سے زیادہ کمالات بھی بخشے ہیں جو کسی طرح چھپ نہیں سکتے اور اُن سے انکار کرنا ایک سخت درجہ کی حق پوشی ہے۔اور نیز ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ الزام کہ صحابہ کرام سے ایسے الہامات ثابت نہیں ہوئے بالکل بے جا اور غلط ہے کیونکہ احادیث صحیحہ کے رو سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے الہامات اور خوارق بکثرت ثابت ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ساریہ کے لشکر کی خطرناک حالت سے با علام الہی مطلع ہو جانا جس کو بیہقی نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اگر الہام نہیں تھا تو اور کیا تھا اور پھر اُن کی یہ آواز کہ يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ الْجَبَل مدینہ میں بیٹھے ہوئے مونہہ سے نکلنا اور وہی آواز قدرت نیبی سے ساریہ اور اس کے لشکر کو دور دراز مسافت سے سنائی دینا اگر خارق عادت نہیں تھی تو اور کیا چیز تھی۔اسی طرح جناب علی مرتضی کرم اللہ وجہہ کے بعض الہامات و کشوف مشہور و معروف ہیں ماسوا اس کے میں پوچھتا ہوں کہ کیا خدائے تعالیٰ کا قرآن شریف میں اس بارہ میں شہادت دینا تسلی بخش امر نہیں ہے کیا اس نے صحابہ کرام کے حق میں نہیں فرمایا كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : ۱۱۱)۔پھر جس حالت میں خدائے تعالیٰ اپنے نبی کریم کے اصحاب کو امم سابقہ سے جمیع کمالات میں بہتر و بزرگ تر ٹھہراتا ہے اور دوسری طرف بطور مشتے نمونہ از خروارے پہلی اُمتوں کے کاملین کا حال بیان کر کے کہتا ہے کہ مریم صدیقہ والدہ عیسی اور ایسا ہی والدہ حضرت موسیٰ اور نیز حضرت مسیح کے حواری اور نیز خضر جن میں سے کوئی بھی نبی نہ تھا یہ جب ملہم من اللہ تھے اور بذریعہ وحی اعلام اسرار غیبیہ سے مطلع کئے جاتے تھے۔تو اب سوچنا چاہیے کہ اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اُمت محمدیہ کے کامل متبعین اُن لوگوں کی نسبت بوجہ اولی ملہم ومحدث ہونے چاہئیں کیونکہ وہ حسب تصریح قرآن شریف خیر الامم ہیں۔براہینِ احمدیہ چہار قصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۵۱ تا ۶۵۵ حاشیه در حاشیه نمبر ۴) محدث کا الہام یقینی اور قطعی ثابت ہوتا ہے جس میں دخل شیطان کا قائم نہیں رہ سکتا اور خود ظاہر ہے کہ اگر خضر اور موسیٰ کی والدہ کا الہام صرف شکوک اور شبہات کا ذخیرہ تھا اور قطعی اور یقینی نہ تھا تو ان کو کب جائز تھا کہ وہ کسی بے گناہ کی جان کو خطرہ میں ڈالتے یا ہلاکت تک پہنچاتے یا کوئی دوسرا ایسا کام کرتے جو شرعاً وعقلاً جائز نہیں ہے۔آخر یقینی علم ہی تھا جس کے باعث سے وہ کام کرنا ان پر فرض ہو گیا تھا اور وہ امور اُن کے لئے روا