تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 202
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٢٠٢ سورة الكهف علمًا فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا أَتَيْنَهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنَهُ مِنْ لَدُنَا اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ جو امر بذریعہ الہام الہی کسی پر نازل ہو۔وہ اس کے لئے اور ہر ایک کے لئے کہ کوئی وجہ یقین کرنے کی رکھتا ہے یا خدا نے کوئی نشان یقین کرنے کا اس پر ظاہر کر دیا ہے۔واجب التعمیل ہے اور جو شخص جس کو اس الہام کی نسبت باور دلایا گیا ہے۔اس پر عمل کرنے سے عمداً دست کش ہو وہ مورد غضب الہی ہوگا۔بلکہ اس کے خاتمہ ہد ہونے کا سخت اندیشہ ہے۔بلعم بن بعور کو خدا نے الہام میں لا تدع علیہم کہا۔اتنے یہ کہ موسیٰ اور اس کے لشکر پر بددعامت کر۔اس نے برخلاف امر الہی کے حضرت موسیٰ کے لئے کر۔لشکر پر بددعا کرنے کا ارادہ کیا آخر اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ خدا نے اس کو اپنی جناب سے رد کر دیا اور اس کو کتے سے تشبیہ دی وہ الہام ہی تھا جس کی تعمیل سے حضرت موسیٰ کی ماں نے حضرت موسیٰ کو شیر خوارگی حالت میں ایک صندوق میں ڈال کر دریا میں پھینک دیا۔الہام ہی تھا جس کے دیکھنے کے لئے موسیٰ جیسے اولوالعزم پیغمبر کو خدا نے اپنے ایک بندہ خضر کے پاس جس کا نام بلیا بن مالکان تھا بھیجا تھا۔جس کے علم قطعی اور یقینی کی نسبت اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا أَتَيْنَهُ رَحْمَةٌ مِنْ عِنْدِنَا وَ عَلَيْنَهُ مِنْ لَدُنَا علمنا۔سواسی علم قطعی اور یقینی کا یہ نتیجہ تھا کہ خضر نے حضرت موسیٰ کے روبرو ایسے کام کئے کہ جو ظاہر أخلاف شرع معلوم ہوتے تھے۔کشتی کو توڑا ایک معصوم بچہ کوقتل کیا ایک غیر ضروری کام کوکسی اجرت کے بغیر اپنے گلے ڈال لیا اور ظاہر ہے کہ خضر رسول نہیں تھا ورنہ وہ اپنی امت میں ہوتا۔نہ جنگلوں اور دریاؤں کے کنارہ پر اور خدا نے بھی اس کو رسول یا نبی کر کے نہیں پکارا۔مگر جو اس کو اطلاع دی جاتی تھی اس کا نام یقینی اور قطعی رکھا ہے۔کیونکہ قرآن کے عرف میں علم اسی چیز کا نام ہے کہ جو قطعی اور یقینی ہو۔اور خود ظاہر ہے کہ اگر خضر کے پاس صرف ظنیات کا ذخیرہ ہوتا تو اس کے لئے کب جائز تھا کہ امر مظنون پر بھروسا کر کے ان امور کو کرتا کہ جو صریح خلاف شرع اور منکر بلکہ با تفاق تمام پیغمبروں کے کبائر میں داخل تھے۔اور پھر اس صورت میں حضرت موسیٰ کا اس کے پاس آنا بھی محض بے فائدہ تھا۔پس جبکہ بہر صورت ثابت ہے کہ خضر کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم یقینی اور قطعی دیا گیا تھا۔تو پھر کیوں کوئی شخص مسلمان کہلا کر اور قرآن شریف پر ایمان لا کر اس بات سے منکر رہے کہ کوئی فرد بشر امت محمدیہ میں سے باطنی کمالات میں خضر کی مانند نہیں ہو سکتا۔بلاشبہ