تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 182

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۲ سورة بنی اسراءیل گے وہ نہیں سوچتے کہ اگر تمیں دجال آنے والے تھے تو اس حساب کی رو سے ہر ایک دجال کے مقابل پر تھیں مسیح بھی تو چاہیے تھے۔یہ کیا غضب ہے کہ دجال تو تیں آگئے مگر مسیح ایک بھی نہ آیا۔یہ امت کیسی بد قسمت ہے کہ اس کے حصہ میں دجال ہی رہ گئے اور سچے مسیح کا منہ دیکھنا اب تک نصیب نہ ہوا حالانکہ اسرائیلی سلسلہ میں تو صد ہانبی آئے تھے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۱۱، ۲۱۲) يَرْفَعُونَ عِيسَى مَعَ جِسْمِهِ إِلَى السَّمَاءِ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو جسم سمیت آسمان پر وَلَا يَتَدَبَّرُونَ قَوْلَهُ تَعَالَى: قُلْ سُبْحَانَ چڑھاتے ہیں اور اللہ تعالی کے قول قُلْ سُبْحَانَ رَبِّی پر رَبِّي بَلْ يَزِيدُونَ فِي الْبُغْضِ وَ الشَّحْنَاءِ غور نہیں کرتے بلکہ وہ بغض اور کینہ میں بڑھ رہے ہیں۔يَا فِتْيَانُ أَيْنَ أَنْتُمْ مِنْ تِلْكَ الْآيَاتِ وَلِمَ اے نوجوانو! تم ان آیات پر غور کرو تم کیوں متشابہات کی تَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهُ مِنَ الْقَوْلِ وَتَترُكُونَ پیروی کرتے ہو اور واضح محکمات کو چھوڑتے ہو۔کیا تم نہیں ہو۔الْبَيِّنَاتِ الْمُحْكَمَاتِ أَلَا تَعْلَمُونَ أَن جانتے کہ اس آیت میں مذکور ہے کہ کفار نے ہمارے رسول الْكُفَّارَ طَلَبُوا في هذِهِ الْآيَةِ مُعْجِزَةَ کریم سے جو سب نبیوں سے بہتر اور تمام برگزیدہ لوگوں کے الصُّعُودِ إِلَى السَّمَاءِ ، مِنْ نَبِيْنَا خَيْرِ سردار میں آسمان پر چڑھنے کا معجزہ طلب کیا تھا۔تب اللہ تعالیٰ نے انہیں جواب دیا کہ بشر کو جسم سمیت آسمان پر اٹھانا اس کی عادت نہیں ہے بلکہ یہ اس کی سنت اور وعدوں کے خلاف طریق ہے اور اگر یہ فرض کیا جائے کہ حضرت عیسی جسم سمیت دوسرے آسمان پر اٹھائے گئے تھے فُرِضَ أَنَّ عِيسَى رُفِعَ مَعَ جِسْمِهِ إِلَى تو اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آسمانوں پر الْأَنْبِيَاءِ وَزُبُدَةِ الْأَصْفِيَاءِ ، فَأَجَابَهُمُ اللهُ أَنَّ رَفَعَ بَشَرٍ مَّعَ جِسْمِهِ لَيْسَ مِنْ عَادَتِهِ بَلْ هُوَ خِلافُ مَوَاعِيدِهِ وَسُنّتِه، وَلَوْ السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ، فَمَا مَعْلَى هَذَا الْمَنْعِ فِي جانے میں روک کے کیا معنے ہیں کیا عیسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ هذِهِ الْآيَةِ أَلَمْ يَكُنْ عِيسَى بَشَرًا عِنْدَ کے نزدیک بشر نہیں تھے۔علاوہ ازیں کون سی سخت حَضْرَةِ الْعِزَّةِ ثُمَّ أَلَى حَاجَةٍ اشْتَدَّتْ ضرورت پیش آئی تھی کہ انہیں بلند آسمانوں پر اٹھایا جاتا کیا لِرفعِهِ إِلَى السَّمَاوَاتِ الْعُلَى أَأَرْهَقَتُهُ زمین ان کے لئے جنگ ہو گئی تھی یا یہود کے ہاتھوں سے بیچ الْأَرْضُ بِضَيْفِهَا۔أَوْ مَا بَقِيَ مَفَةٌ مِنْ أَيْدِی کر زمین میں ان کے لئے کوئی مفر نہ رہا تھا۔پس آپ کو الْيَهُودِ فِيهَا، فَرُفِعَ إِلَى السَّمَاء لِيُخْفى آسمانوں پر اٹھایا گیا تا کہ انہیں چھپایا جائے۔(الاستفتاء ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۷۰،۶۶۹) (ترجمه از مرتب)