تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 183 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 183

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۳ سورة بنی اسراءیل فَلَا شَكَ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ دَلِيْلٌ وَاضِحُ بلا شبہ یہ آیت کسی بشر کے جسم عصری کے ساتھ آسمان عَلَى امْتِنَاعِ صُعُوْدِ بَشَرِ إِلَى السَّمَاءِ مَعَ پر جانے میں روک ہونے کے لئے واضح دلیل ہے اور اس جِسْمِهِ الْعُنْصُرِي، وَلَا يُنْكِرُهُ إِلَّا کا انکار سوائے جاہلوں کے کوئی نہیں کر سکتا نیز آیت الْجَاهِلُونَ۔وَفِي قَوْلِهِ تَعَالَى سُبْحَانَ رَبِّي سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً میں اشارہ إشَارَةٌ إلى أيَةِ فِيهَا تَحْيَونَ وَ فِيهَا آيت فِيهَا تَحْيَونَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ کی طرف ہے کیونکہ تَمُوتُونَ فَإِنَّ رَفَعَ بَشَرِ إِلَى السَّمَاء أَمْرُ کسی انسان کا آسمان پر اٹھایا جانا ایسا امر ہے جو اس عہد يَنقُضُ هَذَا الْعَهْدَ، فَسُبْحَانَهُ وَتَعَالیٰ کو توڑتا ہے اور خدا تعالیٰ کی ذات پاک اور بلند ہے کہ وہ عما يَنقُضُ عَهْدَهُ فَفَكِّرُوا أَيُّهَا اپنے عہد کو توڑے۔اے عقلمند و اس پر پوری طرح غور الْعَاقِلُونَ۔کرو۔(ترجمه از مرتب) (الاستفتاء ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۶۹ حاشیه ) آسمان پر چڑھنے اور اترنے کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ مانگا گیا تھا جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے آخر ان کو صاف جواب دیا گیا اور خدا تعالیٰ نے فرمایا قل سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۸۹) رَّسُولاً - بَشَرًا رَسُولاً - وہ عقیدہ جس پر خدا تعالیٰ نے علی وجہ البصیرت مجھ کو قائم کیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مثل دیگر انسانوں کے انسانی عمر پا کر فوت ہو گئے ہیں اور آسمان پر مع جسم عنصری چڑھ جانا اور پھر کسی وقت مع جسم عنصری زمین پر نازل ہونا یہ سب ان پر تہمتیں ہیں۔قَالَ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا (براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۷۲) جب کافروں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے آسمان پر چڑھنے کی درخواست کی کہ یہ معجزہ دکھلاویں کہ مع جسم عصری آسمان پر چڑھ جائیں تو ان کو یہ جواب ملا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي الخ یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا اس بات سے پاک ہے کہ عہد اور وعدہ کے برخلاف کرے۔وہ پہلے کہہ چکا ہے کہ کوئی جسم عنصری آسمان پر نہیں جائے گا جیسا کہ فرمایا الم نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاء وَ اَمْوَاتًا (المرسلت :۲۷،۲۶) اور جیسا کہ فرما يا فِيهَا تَحْيَونَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ (الاعراف : ۲۶) اور جیسا کہ فرمایا وَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَ مَتَاعُ الاعراف : ٢٦