تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 181

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۱ سورة بنی اسراءیل ابھی ایمان لائیں گے۔ان کو جواب دیا گیا قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا خدا عہد شکنی سے پاک ہے اور ہمو جب اس کے قول کے مع جسم عصری آسمان پر نہیں جاسکتا کیونکہ یہ امر خدا کے وعدہ کے برخلاف ہے وجہ یہ کہ وہ فرماتا ہے کہ فِيهَا تَحيَونَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ (الاعراف : ٢٢) وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ ( البقرة : ۳۷)۔۔۔اگر عیسی مع جسم عصری آسمان پر گیا ہے تو قرآن کے بیان کے رو سے لازم آتا ہے عیسی بشر نہیں تھا۔چشمه سیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۸۶ حاشیه ) جو لوگ مسلمان کہلا کر حضرت عیسی کو مع جسم عصری آسمان پر پہنچاتے ہیں وہ قرآن شریف کے برخلاف ایک لغو بات منہ پر لاتے ہیں۔قرآن شریف تو آیت فَلَنَا تَوَقيْتَنِي ( المائدة : ۱۱۸) میں حضرت عیسی کی موت ظاہر کرتا ہے اور آیت قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلا بَشَرًا رَّسُولاً میں انسان کا مع جسم عصری آسمان پر جانا منع قرار دیتا ہے پھر یہ کیسی جہالت ہے کہ کلام الہی کے مخالف عقید رکھتے ہیں۔(چشمه مسیحی، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۵ حاشیه ) ہمارے مخالف باوجود بہت سے اختلافات کے جو مسیح موعود کے بارے میں ہر ایک فرقہ کی حدیثوں میں پائے جاتے ہیں اور بالا تفاق اس کو امتی بھی قرار دیا گیا ہے اس بات پر مطمئن ہیں کہ ضرور مسیح آسمان سے ہی نازل ہو گا۔حالانکہ آسمان سے نازل ہونا خود غیر معقول اور خلاف نص قرآن ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا بے قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً۔پس اگر بشر کے جسم عنصری کا آسمان پر چڑھانا عادت اللہ میں داخل تھا تو اس جگہ کفار قریش کو کیوں انکار کے ساتھ جواب دیا گیا۔کیا عیسی بشر نہیں تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں اور کیا خدا تعالیٰ کو حضرت عیسی کو آسمان پر چڑھانے کے وقت وہ وعدہ یاد نہ رہا کہ الَم نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَانَا احْيَاء وَ اَمْوَانا (المرسلت : ۲۷،۲۶) مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آسمان پر چڑھنے کا جب سوال کیا گیا تو وہ وعدہ یاد آ گیا۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۷) خدا کی کتابوں میں لکھا گیا کہ مومن مرنے سے چند روز بعد یا نہایت چالیس دن تک زندہ کیا جاتا اور آسمان کی طرف اُٹھایا جاتا ہے۔یہ وہی جھگڑا ہے جو اب تک ہم میں اور ہمارے مخالفوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع کی نسبت چلا آتا ہے۔ہم موافق کتاب اللہ کے ان کی رفع روحانی ہونے کے قائل ہیں اور وہ کتاب اللہ کی مخالفت کر کے اور خدا کے حکم قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولًا کو پیروں کے نیچے رکھ کر رفع جسمانی ہونے کے قائل ہیں اور مجھے کہتے ہیں کہ یہ دجال ہے کیونکہ لکھا ہے کہ میں دجال آئیں