تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 140
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۰ سورة بنی اسراءیل تمہاری پردہ دری کرے گی۔یقین اپنے نوروں کے سمیت آتا ہے۔کوئی آسمان تک نہیں پہنچا سکتا ہے مگر وہی جو آسمان سے آتا ہے۔اگر تم جانتے کہ خدا کا تازہ بتازہ اور یقینی اور قطعی کلام تمہاری بیماریوں کا علاج ہے تو تم اس سے انکار نہ کرتے جو عین صدی کے سر پر تمہارے لئے آیا۔اے غافلو یقین کے بغیر کوئی عمل آسمان پر جا نہیں سکتا اور اندرونی کدورتیں اور دل کی مہلک بیماریاں بغیر یقین کے دور نہیں ہو سکتیں۔جس اسلام پر تم فخر کرتے ہو یہ رسم اسلام ہے نہ حقیقت اسلام۔حقیقی اسلام سے شکل بدل جاتی ہے اور دل میں ایک نور پیدا ہو جاتا ہے اور سفلی زندگی مرجاتی ہے اور ایک اور زندگی پیدا ہوتی ہے جس کو تم نہیں جانتے یہ سب کچھ یقین کے بعد آتا ہے اور یقین اس یقینی کلام کے بعد جو آسمان سے نازل ہوتا ہے۔خدا، خدا کے ذریعہ سے ہی پہچانا جاتا ہے نہ کسی اور ذریعہ سے تم میں سے کون ہے جو اپنے ہم کلام کو شناخت نہیں کر سکتا۔پس اسی طرح مکالمات کی حالت میں معرفت میں ترقی ہوتی جاتی ہے۔بندہ کا دعا کرنا اور خدا تعالیٰ کا لطف اور رحم سے اس دعا کا جواب دینا نہ ایک دفعہ نہ دو دفعہ بلکہ بعض موقعہ پر نہیں میں دفعہ یا تھیں تھیں دفعہ یا پچاس پچاس دفعہ یا قریباً تمام رات یا قریباً تمام دن اسی طرح ہر یک دعا کا جواب پانا اور جواب بھی فصیح تقریر میں۔اور بعض دفعہ مختلف زبانوں میں اور بعض دفعہ ایسی زبانوں میں جن کا علم بھی نہیں اور پھر اس کے ساتھ نشانوں کی بارش اور معجزات اور تائیدوں کا سلسلہ۔کیا یہ ایسا عمل ہے کہ اس قدر مسلسل مکالمات اور مخاطبات اور آیات بینات کے بعد پھر خدا کے کلام میں شک رہے۔نہیں نہیں بلکہ یہ ایسا امر ہے کہ اس کے ذریعہ سے بندہ اسی عالم میں اپنے خدا کو دیکھ لیتا ہے اور دونوں عالم اس کے لئے بلا تفاوت یکساں ہو جاتے ہیں اور جس طرح نورہ کے استعمال سے یکدفعہ بال گر جاتے ہیں ایسا ہی اس نور کے نزول جلال سے وحشیانہ زندگی کے بال جو جرائم اور معاصی سے مراد ہے کالعدم ہو جاتے ہیں اور انسان مردوں سے بیزار ہو کر اس دلآرام زندہ کا عاشق ہو جاتا ہے جس کو دنیا نہیں جانتی اور جیسا کہ تم دنیا کی چیزوں سے بے صبر ہو ویسا ہی وہ خدا کی دوری پر صبر نہیں کر سکتا غرض تمام برکات اور یقین کی کنجی وہ کلام قطعی اور یقینی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بندہ پر نازل ہوتا ہے۔جب خدائے ذوالجلال کسی اپنے بندہ کو اپنی طرف کھینچنا چاہتا ہے تو اپنا کلام اس پر نازل کرتا ہے اور اپنے مکالمات کا اس کو شرف بخشتا ہے اور اپنے خارق عادت نشانوں سے اُس کو تسلی دیتا ہے اور ہر ایک پہلو سے اس پر ثابت کر دیتا ہے کہ وہ اس کا کلام ہے تب وہ کلام قائمقام دیدار کا ہو جاتا ہے اس روز انسان سمجھتا ہے کہ خدا ہے کیونکہ انا الموجود کی آواز سنتا ہے۔خدا تعالیٰ کی کلام سے پہلے اگر انسان کا خدا تعالیٰ کے وجود