تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 141
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۱ سورة بنی اسراءیل پر ایمان ہوتا ہے تو بس اسی قدر کہ وہ مصنوعات پر نظر کر کے یہ خیال کر لیتا ہے کہ اس ترکیب محکم املغ کا کوئی صانع ہونا چاہئے لیکن یہ کہ در حقیقت وہ صانع موجود بھی ہے یہ مرتبہ ہرگز بجز مکالمات الہیہ کے حاصل نہیں ہو سکتا اور گندی زندگی جو تحت الثریٰ کی طرف ہر لمحہ کھینچ رہی ہے وہ ہرگز دور نہیں ہوتی۔اسی جگہ سے عیسائیوں کے خیالات کا بھی باطل ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ خیال کرتے ہیں کہ ابن مریم کی خودکشی نے ان کو نجات دے دی ہے اور حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ تنگ و تاریک دوزخ میں پڑے ہوئے ہیں جو مجو بیت اور شکوک اور شبہات اور گناہ کا دوزخ ہے۔پھر نجات کہاں ہے۔نجات کا سرچشمہ یقین سے شروع ہو جاتا ہے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا یقین دیا جائے کہ اس کا خدا در حقیقت موجود ہے جو مجرم اور سرکش کو بے گناہ نہیں چھوڑتا اور رجوع کرنے والے کی طرف رجوع کرتا ہے۔یہی یقین تمام گناہوں کا علاج ہے بجز اس کے دنیا میں نہ کوئی کفارہ ہے نہ کوئی خون ہے جو گناہ سے بچاوے۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہر ایک جگہ تمہیں یقین ہی ناکردنی باتوں سے روک دیتا ہے تم آگ میں ہاتھ نہیں ڈال سکتے کہ وہ مجھے جلا دے گی۔تم شیر کے آگے اپنے تیئں کھڑا نہیں کرتے کیونکہ تم یقین رکھتے ہو کہ وہ مجھے کھا لے گا۔تم کوئی زہر نہیں کھاتے کیونکہ تم یقین رکھتے ہو کہ وہ مجھے ہلاک کر دے گی۔پس اس میں کیا شک ہے کہ بے شمار تجارب سے تم پر ثابت ہو چکا ہے کہ جس جگہ تمہیں یقین ہو جاتا ہے کہ یہ فعل یا یہ حرکت بلاشبہ مجھے ہلاکت تک پہنچائے گی تم فی الفور اس سے رک جاتے ہو اور پھر وہ گناہ تم سے سرزد نہیں ہوتا۔پھر خدا تعالیٰ کے مقابل پر تم کیوں اس ثابت شدہ فلسفہ سے کام نہیں لیتے کیا تجربہ نے اب تک گواہی نہیں دی کہ بجز یقین کے انسان گناہ سے رک نہیں سکتا۔ایک بکری یقین کی حالت میں اس مرغزار میں چور نہیں سکتی جس میں شیر سامنے کھڑا ہے پس جب کہ یقین لا یعقل حیوانات پر بھی اثر ڈالتا ہے اور تم تو انسان ہو۔اگر کسی دل میں خدا کی ہستی اور اس کی ہیبت اور عظمت اور جبروت کا یقین ہے تو وہ یقین ضرور اسے گناہ سے بچالے گا اور اگر وہ نہیں بچ سکا تو اسے یقین نہیں کیا خدا پر یقین لا نا اس یقین سے کم تر ہے کہ جو شیر اور سانپ اور زہر کے وجود کا یقین ہوتا ہے۔سو وہ گناہ جوخدا سے دور ڈالتا ہے اور جہنمی زندگی پیدا کرتا ہے اس کا اصل سبب عدم یقین ہے۔کاش میں کس دف کے ساتھ اس کی منادی کروں کہ گناہ سے چھڑانا یقین کا کام ہے۔جھوٹی فقیری اور مشیخیت سے تو بہ کرانا یقین کا کام ہے۔خدا کو دکھلانا یقین کا کام ہے۔وہ مذہب کچھ بھی نہیں اور گندہ ہے اور مردار ہے اور نا پاک ہے اور جہنمی ہے اور خود جہنم ہے جو یقین کے چشمہ تک نہیں پہنچا سکتا۔زندگی کا چشمہ یقین سے ہی نکلتا ہے اور وہ پر جو آسمان کی