تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 139
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۹ سورة بنی اسراءیل وہی بیماری اس دوسرے مذہب میں بھی ہے تو اس تبدیلی سے بھی کیا فائدہ۔یوں تو برہمو بھی دعوی کرتے ہیں کہ ہم ایک خدا کے قائل ہیں مگر خدا کا قائل وہی ہے جس کی یقین کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور وہی گناہ سے بیچ سکتا ہے کہ جو یقین کی آنکھ سے خدا کو دیکھتا ہے باقی سب قصے جھوٹ ہیں اور سب کفارے باطل ہیں سو وہی زندہ خدا اس آخری زمانہ میں اپنے تئیں پیش کرتا ہے تا لوگ ایمان لاویں اور ہلاک نہ ہوں۔قرآن شریف خدا کا کلام تو ہے بلکہ سب سے بڑا کلام مگر وہ تم سے بہت دور ہے تمہاری آنکھیں اس کو دیکھ نہیں سکتیں اب وہ تمہارے ہاتھ میں ایسا ہی ہے جیسا کہ توریت یہودیوں کے ہاتھ میں۔اسی وجہ سے اگر تم انصاف کرو تو گواہی دے سکتے ہو کہ باعث اس کے کہ اس پاک کلام کے یقینی انوار تمہاری آنکھوں سے پوشیدہ ہیں تم اس سے باطنی تقدس کا کچھ بھی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے اور اگر واقعات خارجیہ کی شہادت کچھ چیز ہے تو تم انصافاً آپ ہی شہادت دے سکتے ہو کہ اس موجودہ زمانہ میں تمہاری کیا حالتیں ہیں سچ کہو کہ کیا تم گناہوں سے اور تمام ان حرکات سے جو تقویٰ کے برخلاف ہیں ایسے ڈرتے ہو جیسا کہ ایک زہر ہلاہل کے استعمال سے انسان ڈرتا ہے۔سچ کہو کہ کیا تم اس تقویٰ پر قائم ہو جس تقویٰ کے لئے قرآن شریف میں ہدایت کی گئی تھی۔سچ کہو کہ وہ آثار جو سچے یقین کے بعد ظاہر ہوتے ہیں وہ تم میں ظاہر ہیں۔تم اس وقت جھوٹ نہ بولو اور بالکل سچ کہو کہ کیا وہ محبت جو خدا سے کرنی چاہئے اور وہ صدق و ثبات جو اس کی راہ میں دکھلانا چاہئے وہ تم میں موجود ہے۔تم خدائے علا وجان کی قسم کھا کر کہو کہ اس مردار دنیا کو جس صفائی سے ترک کرنا چاہئے کیا تم اسی صفائی سے ترک کر چکے ہو۔اور جس اخلاص اور توحید اور تفرید سے خدائے واحد لاشریک کی طرف دوڑ نا چاہئے کیا تم اُسی اخلاص سے اُس کی راہ میں دوڑ رہے ہو۔ریا کاری سے بات مت کرو اور لاف زنی سے لوگوں کو خوش کرنا مت چاہو کہ وہ خدا در حقیقت موجود ہے جو تمہارے ہر ایک قول اور فعل کو دیکھ رہا ہے۔تم بات کرتے وقت اس قادر کا خیال کر لوجس کا غضب کھا جانے والی آگ ہے وہ جھوٹی شیخیوں کو ایک دم جہنم کا ہیزم کر سکتا ہے۔سو تم سچ سچ کہو کہ تمہارے قدم دنیا کی خواہشوں یا دنیا کی آبروؤں یا دنیا کے مال و متاع میں پھنسے ہوئے ہیں یا نہیں۔پس اگر تمہیں خدا پر یقین حاصل ہوتا تو تم اس زہر کو ہر گز نہ کھاتے اور قریب تھا کہ دنیا اس زہر سے مر جاتی اگر خدا یہ آسمانی سلسلہ اپنے ہاتھ سے قائم نہ کرتا اور اگر تم چالا کی سے کہو کہ ہم ایسے ہی ہیں جیسا کہ بیان کیا گیا اور ہم میں گناہ کی کوئی تاریکی نہیں اور پورے یقین کے انجن سے ہم کھنچے جارہے ہیں تو تم نے جھوٹ بولا ہے اور آسمان اور زمین کے بنانے والے پر تہمت لگائی ہے اس لئے قبل اس کے جو تم مرو خدا کی لعنت