تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 135
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۵ سورۃ بنی اسراءیل يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أَنَاسِ بِاِمَامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتْبَهُ بِيَمِينِهِ فَأُولَبِكَ يَقْرَءُونَ كتبهُمْ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا اور ایک تاگے کے برابر کسی پر زیادتی نہیں ہوگی۔ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۳۱) وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بدتر۔( براہین احمدیہ چہار تحصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۸۹ حاشیہ نمبر ۵) جو شخص اس جہان میں اندھار ہا اور علم الہی میں بصیرت پیدا نہ کی وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ( براہینِ احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۵۰۲،۵۰۱) ہوگا بلکہ اندھوں سے بدتر ہوگا۔جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بھی گیا گزرا۔سرمه چشم آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۵۷) کیا اس جگہ نابینائی سے مراد جسمانی نابینائی ہے بلکہ روحانی نا بینائی مراد ہے۔جو اس جہان میں اندھا ہو گا وہ اس جہان میں بھی اندھا ہوگا۔باوا صاحب کا ایک شعر یہ ہے۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۶۹) تریاق القلوب ، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴۶۳ حاشیه ) جنہاں درشن ات ہے اُنہاں درشن اُت جنہاں درشن ات نااُنہاں ات نہ اُت ترجمہ یہ ہے کہ جو لوگ اس جہاں میں خدا کا درشن پالیتے ہیں وہ اس جہاں میں بھی پالیتے ہیں اور جو یہاں نہیں پاتے وہ دونوں جہانوں میں اس کے درشن سے بے نصیب رہتے ہیں اور یہ شعر بھی اس آیت قرآن کا ترجمہ ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى - ست بچن، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۱۲۷) جو یہاں اندھا ہے وہ وہاں بھی اندھا ہی ہوگا یعنی جس کو اس دنیا میں خدا کا درشن حاصل ہے اس کو اس جہان میں بھی درشن ہوگا اور جو شخص اس کو اس جگہ نہیں دیکھتا آخرت میں بھی اس عزت اور مرتبہ سے محروم ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۴) ہوگا۔