تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 136
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۶ سورة بنی اسراءیل جو شخص اس جہان میں اندھار ہاوہ آنے والے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بدتر۔سیہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نیک بندوں کو خدا کا دیدار اسی جہان میں ہو جاتا ہے اور وہ اسی جنگ میں اپنے اس پیارے کا درشن پالیتے ہیں جس کے لئے وہ سب کچھ کھوتے ہیں۔غرض مفہوم اس آیت کا یہی ہے کہ بہشتی زندگی کی بنیاد اسی جہان سے پڑتی ہے اور جہنمی نابینائی کی جڑ بھی اس جہان کی گندی اور کورانہ زیست ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۸۰،۳۸۹) جو شخص اس جہان میں اندھا ہوگا وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہوگا۔اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ اس جہان کی روحانی نابینائی اس جہان میں جسمانی طور پر مشہود اور محسوس ہوگی۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۹) جو شخص اس دنیا میں خدا کے دیکھنے سے بے نصیب ہے وہ قیامت میں بھی تاریکی میں گرے گا۔(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۶۵) جو شخص اس جہان میں اندھا ہو وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بدتر۔یعنی خدا کے دیکھنے کی آنکھیں اور اس کے دریافت کرنے کے حواس اسی جہان سے ملتے ہیں جس کو اس جہان میں نہیں ملے اس کو دوسرے جہان میں بھی نہیں ملیں گے۔راستباز جو قیامت کے دن خدا کو دیکھیں گے وہ اسی جگہ سے دیکھنے والے حواس ساتھ لے جائیں گے۔اور جو شخص اس جگہ خدا کی آواز نہیں سنے گا وہ اس جگہ بھی نہیں سنے گا۔خدا کو جیسا کہ خدا ہے بغیر کسی غلطی کے پہچانا اور اس عالم میں بچے اور صیح طور پر اس کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کرنا یہی تمام روشنی کا میدہ ہے۔(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۸۰) تم دیکھتے ہو کہ جب آفتاب کی طرف کی کھڑ کی کھولی جائے تو آفتاب کی شعاعیں ضرور کھڑکی کے اندر آجاتی ہیں ایسا ہی جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف بالکل سیدھا ہو جائے اور اس میں اور خدا تعالیٰ میں کچھ حجاب نہ رہے تب فی الفور ایک نورانی شعلہ اس پر نازل ہوتا ہے اور اُس کو منور کر دیتا ہے اور اس کی تمام اندرونی غلاظت دھو دیتا ہے۔تب وہ ایک نیا انسان ہو جاتا ہے اور ایک بھاری تبدیلی اس کے اندر پیدا ہوتی ہے۔تب کہا جاتا ہے کہ اس شخص کو پاک زندگی حاصل ہوئی۔اس پاک زندگی کے پانے کا مقام یہی دنیا ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أعلى وَأَضَنُّ سَبِيلاً یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا رہا اور خدا کے دیکھنے کا اس کونو ر نہ ملاوہ اس جہان میں