تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 119
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 119 سورة بنی اسراءیل۔لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِه عِلم مراد از علم یقین علم سے مراد یقین ہے فنون کو علم نہیں کہتے۔است ظنون را علم نے گویند۔ایناں اتباع ظن میکنند۔یہ لوگ فن کی اتباع کرتے ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۵ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۳ صفحه (۱۴) جس بات کا تجھے علم نہیں اس کے متعلق اپنی زبان نہ کھول۔(ترجمه از مرتب) ( بدر جلد نمبر ۳۶ مورخہ ۱۷ رنومبر ۱۹۰۵ ء صفحہ ۷) مخالفوں کا تو یہ فرض تھا کہ وہ حسن ظنی سے کام لیتے اور لا تقفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ پر عمل کرتے مگر انہوں نے جلد بازی سے کام لیا۔یادرکھو پہلی قومیں اسی طرح ہلاک ہوئیں۔عقلمند وہ ہے جو مخالفت کر کے بھی جب اسے معلوم ہو کہ وہ غلطی پر تھا اسے چھوڑ دے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۱ مورخه ۱۳۰ نومبر ۱۹۰۶ صفحه ۵) جس بات کا علم نہیں خواہ نخواہ اس کی پیروی مت کرو کیونکہ کان، آنکھ، دل اور ہر ایک عضو سے پوچھا جاوے گا۔بہت سی بدیاں صرف بدلنی سے ہی پیدا ہو جاتی ہیں۔ایک بات کسی کی نسبت سنی اور جھٹ یقین کر لیا یہ بہت بری بات ہے جس بات کا قطعی علم اور یقین نہ ہو اس کو دل میں جگہ مت دو۔یہ اصل بدظنی کو دور کرنے کے لئے ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۲ مورخه ۲۴ جون ۱۹۰۶ ء صفحه ۳) تم قال اللہ اور قال الرسول پر عمل کرو اور ایسی باتیں زبان پر نہ لاؤ جن کا تمہیں علم نہیں۔و الحکم جلد نمبر ۴۱ مورخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۳) اگران میں خوف خدا ہوتا اور یہ تقویٰ سے کام لیتے اور لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ پر عمل کرتے اور میری باتوں کو غور سے سنتے اور پھر ان پر فکر کرتے اس کے بعد حق تھا جو چاہتے کہتے مگر انہوں نے اس کی پروانہ کی اور خدا کے خوف سے نہ ڈرے جو منہ میں آیا کہہ گزرے۔(احکم جلد 9 نمبر ۴۰ مورخه ۱۷ رنومبر ۱۹۰۵ صفحه ۸) تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَوتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ وَ إِنْ مِّنْ شَيْءٍ إِلا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے خدا کی تقدیس کرتے ہیں اور کوئی چیز نہیں جو اس کی تقدیس نہیں کرتی پر تم ان کی تقدیسوں کو سمجھتے نہیں یعنی زمین آسمان پر نظر غور کرنے سے خدا کا کامل اور مقدس ہونا اور بیٹیوں اور شریکوں سے پاک ہونا ثابت ہو رہا ہے مگر ان کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔بر این احمدیہ چہار تحصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۲۰ حاشیه در حاشیه نمبر ۳)