تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 118

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۸ سورة بنی اسراءیل b کوئی مصلح گزرا ہے اور ہمیں یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ ہم پورے علم کے بغیر کسی کی نسبت کوئی رائے ظاہر نہ کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلٌّ أولبِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا سو یہ پاک عقائد ہمیں بے جابد زبانیوں اور متعصبانہ نکتہ چینیوں سے محفوظ رکھتے ہیں مگر ہمارے مخالف چونکہ تقویٰ کی راہوں سے بالکل دور اور بے قید اور خلیج الرسن ہیں اور قرآن کریم جو سب سے پیچھے آیا ان کو طبعاً برا معلوم ہوتا ہے لہذا وہ جلد مخش گوئی اور بدزبانی اور توہین کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور سچی باتوں کے مقابل پر افتراؤں سے کام لیتے ہیں۔( آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۹۹٬۹۸) جس بات کا تجھ کو طی علم نہیں دیا گیا۔اس بات کا پیروکارمت بن اور یا درکھ کہ کان اور آنکھ اور دل جس قدر اعضاء ہیں ان سب اعضاء سے باز پرس ہوگی۔آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۹۹) جمیع اعضا کی وضع استقامت پر چلانے کے لئے ایک ایسا کلمہ جامعہ اور پر تہدید بطور تنبیہ و انذار فرمایا جو غافلوں کو متنبہ کرنے کے لئے کافی ہے اور کہا اِنَّ السَّبْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَبِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا - یعنی کان اور آنکھ اور دل ایسا ہی تمام اعضا اور قوتیں جو انسان میں موجود ہیں۔ان سب کے غیر محل استعمال کرنے سے باز پرس ہوگی اور ہر یک کمی بیشی اور افراط اور تفریط کے بارہ میں سوال کیا جائے گا۔اب دیکھو اعضا اور تمام قوتوں کو مجری خیر اور صلاحیت پر چلانے کے لئے کس قدر تصریحات و تاکیدات خدا کے کلام میں موجود ہیں اور کیسے ہر یک عضو کو مرکز اعتدال اور خط استوا پر قائم رکھنے کے لئے بکمال وضاحت بیان فرمایا گیا ہے جس میں کسی نوع کا ابہام و اجمال باقی نہیں رہا۔کیا یہ تصریح و تفصیل صحیفہ قدرت کے کسی صفحہ کو پڑھ کر معلوم ہوسکتی ہے۔ہرگز نہیں۔جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے مت پڑ۔برائین احمدیہ چهار خصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۱۰ حاشیہ نمبر ۱۱) برائین احمدیہ چہار تحص، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۶۰۸ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) کسی کی نسبت وہ بہتان یا الزام مت لگاؤ جس کا تمہارے پاس کوئی ثبوت نہیں اور یا درکھو کہ ہر ایک عضو سے مواخذہ ہوگا اور کان، آنکھ ، دل ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۰) وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِیہ علم یہاں علم سے مراد یقین ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۶)