تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 120
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۲۰ سورة بنی اسراءیل اور کوئی چیز نہیں جو خدا کی حمدو ثنا میں مشغول نہیں ہر ایک چیز اس کے ذکر میں لگی ہوئی ہے۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۲۱) ہر یک چیز اس کی پاکی اور اس کے محامد بیان کر رہی ہے اگر خدا ان چیزوں کا خالق نہیں تھا تو ان چیزوں میں خدا کی طرف کشش کیوں پائی جاتی ہے ایک غور کرنے والا انسان ضرور اس بات کو قبول کر لے گا کہ کسی مخفی تعلق کی وجہ سے یہ کشش ہے۔ست بچن ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۲۹۶، ۲۹۷) وہ خدا جس کا پتہ قرآن شریف بتلاتا ہے اپنی موجودات پر فقط قہری حکومت نہیں رکھتا بلکہ موافق آیت ريمه اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى (الاعراف :۱۷۳) کے ہر یک ذرہ ذرہ اپنی طبیعت اور روحانیت سے اس کا حکم بردار ہے اس کی طرف جھکنے کے لئے ہر یک طبیعت میں ایک کشش پائی جاتی ہے اس کشش سے ایک ذرہ بھی خالی نہیں اور یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ ہر یک چیز کا خالق ہے کیونکہ نو ر قلب اس بات کو مانتا ہے کہ وہ کشش جو اس کی طرف جھکنے کے لئے تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے وہ بلاشبہ اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ قرآن شریف نے اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اِن مِّنْ شَيْءٍ إِلا يُسَبِّحُ بحمدہ یعنی ہر یک چیز اس کی پاکی اور اس کے محامد بیان کر رہی ہے۔اگر خدا ان چیزوں کا خالق نہیں تھا تو ان چیزوں میں خدا کی طرف کشش کیوں پائی جاتی ہے۔ایک غور کرنے والا انسان ضرور اس بات کو قبول کر لے گا کہ کسی مخفی تعلق کی وجہ سے یہ کشش ہے۔(رسالہ معیار المذاہب، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۸۶، ۴۸۷) ذرہ ذرہ زمین کا اور آسمان کا خدا کی تحمید اور تقدیس کر رہا ہے اور جو کچھ ان میں ہے وہ تحمید اور تقدیس میں مشغول ہے پہاڑ اُس کے ذکر میں مشغول ہیں دریا اُس کے ذکر میں مشغول ہیں درخت اُس کے ذکر میں مشغول ہیں اور بہت سے راستباز اُس کے ذکر میں مشغول ہیں اور جو شخص دل اور زبان کے ساتھ اس کے ذکر میں مشغول نہیں اور خدا کے آگے فروتنی نہیں کرتا اس سے طرح طرح کے شکنجوں اور عذابوں سے قضا و قدر الہی فروتنی کرا رہی ہے اور جو کچھ فرشتوں کے بارے میں خدا کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ نہایت درجہ اطاعت کر رہے ہیں یہی تعریف زمین کے پات پات اور ذرہ ذرہ کی نسبت قرآن شریف میں موجود ہے کہ ہر ایک چیز اُس کی اطاعت کر رہی ہے ایک پتہ بھی بجز اُس کے امر کے گر نہیں سکتا اور بجز اس کے حکم کے نہ کوئی دوا شفا دے سکتی ہے اور نہ کوئی غذا موافق ہو سکتی ہے اور ہر ایک چیز غایت درجہ کی تذلل اور عبودیت سے خدا کے آستانہ پر گری ہوئی ہے اور اُس کی فرمانبرداری میں مستغرق ہے۔پہاڑوں اور زمین کا ذرہ ذرہ اور