تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 116

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام غَفُوران ١١٦ سورة بنی اسراءیل اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔اگر تم صالح ہو تو وہ اپنی طرف جھکنے والوں کے واسطے غفور ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی بعض ایسے مشکلات آگئے تھے کہ دینی مجبوریوں کی وجہ سے ان کی ان کے والدین سے نزاع ہو گئی تھی۔بہر حال تم اپنی طرف سے ان کی خیریت اور خبر گیری کے واسطے ہر وقت تیار رہو جب کوئی موقع ملے اسے ہاتھ سے نہ دو۔تمہاری نیت کا ثواب تم کو مل رہے گا۔اگر محض دین کی وجہ سے اور اللہ کی رضا کو مقدم کرنے کے واسطے والدین سے الگ ہونا پڑا ہے تو یہ ایک مجبوری ہے۔اصلاح کو مدنظر رکھو اور نیت کی صحت کا لحاظ رکھو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو۔یہ معاملہ کوئی آج نیا نہیں پیش آیا حضرت ابراہیم کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا بہر حال خدا کا حق مقدم ہے پس خدا کو مقدم کرو اور اپنی طرف سے والدین کے حقوق ادا کرنے کی کوشش میں لگے رہو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو اور صحت نیت کا خیال رکھو۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۶ مورخه ۲ مارچ ۱۹۰۸ ء صفحه ۴) وَاتِ ذَا الْقُرْبى حَقَّةُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَدِّرُ تَبْذِيرًا غریبوں کا حق ادا کرو۔مسکینوں کو دو۔مسافروں کی خدمت کرو اور فضولیوں سے اپنے تئیں بچاؤ یعنی بیا ہوں شادیوں میں اور طرح طرح کی عیاشی کی جگہوں میں اور لڑکا پیدا ہونے کی رسوم میں جو اسراف سے مال خرچ کیا جاتا ہے اس سے اپنے تئیں بچاؤ۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۸) وَلَا تَقْتُلُوا اَوْلادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خطا كبيران اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۶) وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا زنا کے قریب مت جاؤ یعنی ایسی تقریبوں سے دور رہو جن سے یہ خیال بھی دل میں پیدا ہوسکتا ہو اور ان راہوں کو اختیار نہ کرو جن سے اس گناہ کے وقوع کا اندیشہ ہو۔جو زنا کرتا ہے وہ بدی کو انتہا تک پہنچا دیتا