تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 115
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۵ سورۃ بنی اسراءیل اور اسی کی طرف یہ دوسری آیت اشارہ کرتی ہے وَقَضَى رَبُّكَ اَلَا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا یعنی تیرے رب نے چاہا ہے کہ تو فقط اُسی کی بندگی کر اور والدین سے احسان کر۔اس آیت میں بہت پرستوں کو جو بت کی پوجا کرتے ہیں سمجھایا گیا ہے کہ بت کچھ چیز نہیں ہیں اور جنوں کا تم پر کچھ احسان نہیں ہے۔انہوں نے تمہیں پیدا نہیں کیا اور تمہاری خورد سالی میں وہ تمہارے متکفل نہیں تھے اور اگر خدا جائز رکھتا کہ اس کے ساتھ کسی اور کی بھی پرستش کی جائے تو یہ حکم دیتا کہ تم والدین کی بھی پرستش کرو کیونکہ وہ بھی مجازی رب ہیں اور ہر ایک شخص طبعاً یہاں تک کہ درند چرند بھی اپنی اولاد کو اُن کی خوردسالی میں ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔پس خدا کی ربوبیت کے بعد اُن کی بھی ایک ربوبیت ہے اور وہ جوش ربوبیت کا بھی خدا تعالیٰ کی (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۱۳، ۲۱۴) طرف سے ہے۔تیرے رب نے یہ حکم کیا ہے کہ تم فقط میری ہی پرستش کرو اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں پس تو اُن کی نسبت کوئی بیزاری کا لفظ منہ پر مت لا اور اُن کو مت جھڑک اور سخت لفظ مت بول اور جب تو اُن سے بات کرے تو تعظیم اور ادب سے کر۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۱۰) وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمُهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيران اور تذلل اور رحمت سے ان کے سامنے اپنا بازو جھکا اور دعا کر کہ اے میرے رب تو ان پر رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن کے زمانے میں میری پرورش کی۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۲۴) اور مہربانی کی راہ سے ان دونوں کے آگے اپنے بازو جھکا دے اور دعا کرتا رہ کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ انہوں نے بچپن کے زمانہ میں رحم کر کے میری پرورش کی۔ط (چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۱۰) رَبِّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِي نُفُوسِكُمْ إِن تَكُونُوا صُلِحِينَ فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ