تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 117
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 112 سورة بنی اسراءیل ہے۔زنا کی راہ بہت بری راہ ہے یعنی منزل مقصود سے روکتی ہے اور تمہاری آخری منزل کے لئے سخت اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۲) خطر ناک ہے۔b و اوفُوا الكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِيمِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَ اَحْسَنُ تأويلات جب تم ما پو تو پورا ماہو۔جب تم وزن کرو تو پوری اور بے خلل ترازو سے وزن کرو۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۴۷) وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَبِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا طریق تقویٰ یہ ہے کہ جب تک فراست کا ملہ اور بصیرت صحیحہ حاصل نہ ہو تب تک کسی چیز کے ثبوت یا عدم الحق لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۹) ثبوت کی نسبت حکم نافذ نہ کیا جاوے۔بدظنی اور بدگمانی میں حد سے زیادہ مت بڑھو ایسا نہ ہو کہ تم اپنی باتوں سے پکڑے جاؤ۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۰۴) خدا تعالیٰ نے صرف قرآن کریم میں ہاتھ پیر کے گناہوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ کان اور آنکھ اور دل کے گناہوں کا بھی ذکر کیا ہے جیسا کہ وہ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أوليكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولاً یعنی کان اور آنکھ اور دل جو ہیں ان سب سے باز پرس کی جائے گی۔اب دیکھو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کان اور آنکھ کے گناہ کا ذکر کیا ایسا ہی دل کے گناہ کا بھی ذکر کیا مگر دل کا گناہ خطرات اور خیالات نہیں ہیں کیونکہ وہ تو دل کے بس میں نہیں ہیں بلکہ دل کا گناہ پختہ ارادہ کر لیتا ہے۔صرف ایسے خیالات جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں گناہ میں داخل نہیں۔ہاں اس وقت داخل ہو جائیں گے جب ان پر عزیمت کرے اور ان کے ارتکاب کا ارادہ کر لیوے۔(نور القرآن، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۲۸،۴۲۷) اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ جو کسی قوم کے پیشوا کو گالی دینا اس کا اصول نہیں کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہم ان پیغمبروں پر ایمان لائے ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے اور یہ بھی ہمارا عقیدہ ہے کہ ہر یک قوم میں کوئی نہ