تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 114
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۱۴ سورۃ بنی اسراءیل الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا اَوْ كِلَهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أنْ وَ لَا تَنْهَرُهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلاً گریمان تیرے خدا نے یہ چاہا ہے کہ تو فقط اسی کی بندگی کر اور اپنے ماں باپ سے احسان کرتارہ۔(برائین احمد یه چهار تصص، روحانی خزائن جلد اصفحه ۵۲۱ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) اور تیرے خدا نے یہی چاہا ہے کہ تم اسی کی بندگی کرو اُس کے سوا کوئی اور دوسرا تمہارا معبود نہ ہو اور ماں باپ سے احسان کر اگر وہ دونو یا ایک اُن میں سے تیرے سامنے بڑی عمر تک پہنچ جائیں تو تو اُن کو اُف نہ کر اور نہ اُن کو جھڑک بلکہ اُن سے ایسی باتیں کہہ کہ جن میں اُن کی بزرگی اور عظمت پائی جائے۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۴۲۴) خدا نے یہ چاہا ہے کہ کسی دوسرے کی بندگی نہ کرو اور والدین سے احسان کرو۔حقیقت میں کیسی ربوبیت ہے کہ انسان بچہ ہوتا ہے اور کسی قسم کی طاقت نہیں رکھتا۔اس حالت میں ماں کیا کیا خدمات کرتی ہے اور والد اس حالت میں ماں کی مہمات کا کیسا متکفل ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ناتواں مخلوق کی خبر گیری کے لئے دو محل پیدا کر دیئے ہیں اور اپنی محبت کے انوار سے ایک پر تو محبت کا اُن میں ڈال دیا ہے۔مگر یا درکھنا چاہیئے کہ ماں باپ کی محبت عارضی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت حقیقی ہے اور جب تک قلوب میں اللہ تعالی کی طرف سے اس کا القا نہ ہو کوئی فرد بشر خواہ دوست ہو یا کوئی برابر درجہ کا ہو یا کوئی حاکم ہو کسی سے محبت نہیں کر سکتا اور یہ خدا کی کمال ربوبیت کا راز ہے کہ ماں باپ بچوں سے ایسی محبت کرتے ہیں کہ اُن کے تکفل میں ہر قسم کے دُکھ شرح صدر سے اُٹھاتے ہیں یہاں تک کہ اُن کی زندگی کے لئے مرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔روئیداد جلسه دعا، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۶۰۳) فَلَا تَقُل لَّهُما أَي وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا یعنی اپنے والدین کو بیزاری کا کلمہ مت کہو اور ایسی باتیں اُن سے نہ کر جن میں اُن کی بزرگواری کا لحاظ نہ ہو۔اس آیت کے مخاطب تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن دراصل مرجع کلام اُمت کی طرف ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد اور والدہ آپ کی خوردسالی میں ہی فوت ہوچکے تھے اور اس حکم میں ایک راز بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس آیت سے ایک منظمند سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ تو اپنے والدین کی عزت کر اور ہر ایک بول چال میں ان کے بزرگا نہ مرتبہ کا لحاظ رکھ تو پھر دوسروں کو اپنے والدین کی کس قدر تعظیم کرنی چاہئے