تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 113

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہی غیر تبدل قاعدہ کتاب الہی نے بیان کیا ہے۔١١٣ سورة بنی اسراءیل انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد 9 صفحه ۳) دنیوی عذاب کا موجب کفر نہیں ہے بلکہ شرارت ہے اور تکبر میں حد سے زیادہ بڑھ جانا موجب ہے اور ایسا آدمی خواہ مومن ہی کیوں نہ ہو جب ظلم اور ایذاء اور تکبر میں حد سے بڑھے گا اور عظمت الہی کو بھلا دے گا تو عذاب الہی ضرور اس کی طرف متوجہ ہوگا۔اور جب ایک کا فرمسکین صورت رہے گا اور اس کو خوف دامن گیر ہوگا تو گو وہ اپنی مذہبی ضلالت کی وجہ سے جہنم کے لائق ہے مگر عذاب دنیوی اس پر نازل نہیں ہوگا۔پس دنیوی عذاب کے لئے یہی ایک قدیم اور مستحکم فلاسفی ہے اور یہی وہ سنت اللہ ہے جس کا ثبوت خدا کی تمام کتابوں سے ملتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ إِذَا أَرَدْنَا أَنْ تُهْلِكَ قَرْيَةٌ آمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَ مَرْنَهَا تَدْمِيرًا - یعنی جب ہمارا ارادہ اس بات کی طرف متعلق ہوتا ہے کہ کسی بستی کے لوگوں کو ہلاک کریں تو ہم بستی کے منعم اور عیاش لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی بدکاریوں میں حد اعتدال سے نکل جاتے ہیں۔پس ان پر سنت اللہ کا قول ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ظلموں میں انتہا تک پہنچ جاتے ہیں۔تب ہم ان کو ایک سخت ہلاکت کے ساتھ ہلاک کر دیتے ہیں۔(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۵) ۱ عذاب الہی جو دنیا میں نازل ہوتا ہے وہ تبھی کسی پر نازل ہوتا ہے کہ جب وہ شرارت اور ظلم اور تکبر اور علو اور غلو میں نہایت کو پہنچ جاتا ہے یہ نہیں کہ ایک کا فرخوف سے مرا جاتا ہے اور پھر بھی عذاب الہی کے لئے اس پر صاعقہ پڑے اور ایک مشرک اندیشہ عذاب سے جان بلب ہو اور پھر بھی اس پر پتھر برسیں۔خداوند تعالیٰ نہایت درجہ کا رحیم اور حلیم ہے عذاب کے طور پر صرف اس کو اس دنیا میں پکڑتا ہے جو اپنے ہاتھ سے عذاب کا سامان تیار کرے۔انوار الاسلام ، روحانی خزائن جلد 9 صفحه ۱۶) لَا تَجْعَلْ مَعَ اللهِ الهَا أَخَرَ فَتَقْعُدَ مَنْ مُوْمًا مَخْذُولات خدائے تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا خدامت ٹھہرا اگر تو نے ایسا کیا تو مذموم اور مخذول ہو کر بیٹھے گا۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۲۴) وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ