تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 104

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۴ سورة بنی اسراءیل تُورَانِي الَّذِي هُوَ غَيْرُ الْجِسْمِ الْعُنصري نورانی جسم کے ساتھ صعود فرما ہوئی تھی۔نورانی جسم وہ ہے جو الَّذِي مَا خُلِقَ مِنَ القُرْبَةِ وَمَا كَانَ مادی جسم کے علاوہ ہے جو مٹی سے پیدا نہیں ہوا اور مادی اور لِحِسْمٍ أَرْضِي أَنْ تُرْفَعَ إِلَى السَّمَاءِ وَعُد جسمانی جسم کے لئے روانہیں کہ اسے آسمان کی طرف اٹھایا مِنَّا لِلهِ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْعِزَّةِ وَإِنْ كُنْتَ جائے۔یہ خدائے قادر وعزیز کا وعدہ ہے اور اگر تمہیں اس في رَيْبٍ فَاقْرَأْ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَانا بارے میں شک ہو تو آیت کریمہ اَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ احيَاء وَ امْوَانال يفانا احيَاء وَ اَمْوَاتًا کو پڑھو۔( ترجمہ از مرتب ) الهدى ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۶۴) معراج انقطاع تام تھا اور سر اس میں یہ تھا کہ تا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقط نفسی کو ظاہر کیا جاوے آسمان پر ہر ایک روح کے لئے ایک نقطہ ہوتا ہے اس سے آگے وہ نہیں جاتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطہ نفسی عرش تھا اور رفیق اعلیٰ کے معنے بھی خدا ہی کے ہیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اور کوئی معزز و مکزم نہیں ہے۔احکام جلد ۵ نمبر ۶ مورخہ ۷ار فروری ۱۹۰۱ ، صفحہ ۷ ) معراج ہوئی تھی مگر یہ فانی بیداری اور فانی اشیاء کے ساتھ نہ تھی بلکہ وہ اور رنگ تھا۔جبرائیل بھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا اور نیچے اترتا تھا جس رنگ میں اس کا اتر نا تھا اسی رنگ میں آنحضرت کا چڑھنا ہوا تھا۔نہ اترنے والا کسی کو اتر تا نظر آتا تھا اور نہ چڑھنے والا کوئی چڑھتا ہوا دیکھ سکتا تھا۔حدیث شریف میں جو بخاری ہے میں آیا ہے کہ ثُمَّ اسْتَيْقَظ یعنی پھر جاگ اُٹھے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۱ صفحه ۳) سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِہ سے یہی پایا جاتا ہے کہ جب کامل معرفت ہوتی ہے تو پھر اس کو عجیب و غریب مقامات کی سیر کرائی جاتی ہے اور یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو ادب سے اپنی خواہشوں کو مخفی رکھتے ہیں۔تمام منہاج نبوت اسی پر دلالت کرتا ہے۔پہلے نشان بھی ظاہر نہیں ہوتے بلکہ ابتلا ہوتے ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۲ مورخہ ۱۷/جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۹) ہماری اس مسجد کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ رکھا ہے کیونکہ اقصیٰ یا با عتبار بعد زمانہ کے ہوتا ہے اور یا بُعد مکان کے لحاظ سے اور اس الہام میں الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِى بُرَكْنَا حَوْلَہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات زمانی کو لیا ہے اور اس کی تائید و آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهم ( الجمعة : ۴) سے بھی ہوتی ہے اور المرسلات : ۲۷،۲۶