تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 105

۱۰۵ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ بنی اسراءیل بركنا حوله کا اس زمانہ کی برکات سے ثبوت ملتا ہے جیسے ریل اور جہازوں کے ذریعہ سفروں کی آسانی اور تار اور ڈاک خانہ کے ذریعہ سلسلہ رسل در سائل کی سہولت اور ہر قسم کے آرام و آسائش قسم قسم کی کلوں کے اجرا سے ہوتے جاتے ہیں اور سلطنت بھی ایک امن کی سلطنت ہے۔(احکام جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ رنومبر ۱۹۰۲ صفحه ۷ ) ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبد بھی ہے اور اس لئے خدا نے عہد نام رکھا کہ اصل عبودیت کا خضوع اور ذلت ہے اور عبودیت کی حالت کا ملہ وہ ہے جس میں کسی قسم کا غلو اور بلندی اور تعجب ندر ہے اور صاحب اس حالت کا اپنی عملی تکمیل محض خدا کی طرف سے دیکھے اور کوئی ہاتھ درمیان نہ دیکھے۔عرب کا محاورہ ہے کہ وہ کہتے ہیں مَوْرٌ مُعَبَّد وَ طَرِيقٌ مُعبد جہاں راہ نہایت درست اور نرم اور سیدھا کیا جاتا ہے اس راہ کو طریق معبد کہتے ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے عبد کہلاتے ہیں کہ خدا نے محض اپنے تصرف اور تعلیم سے اُن میں عملی کمال پیدا کیا اور ان کے نفس کو راہ کی طرح اپنی تجلیات کے گزر کے لئے نرم اور سیدھا اور صاف کیا اور اپنے تصرف سے وہ استقامت جو عبودیت کی شرط ہے ان میں پیدا کی۔پس وہ علمی حالت کے لحاظ سے مہدی ہیں اور عملی کیفیت کے لحاظ سے جو خدا کے عمل سے ان میں پیدا ہوئی عبد ہیں۔کیونکہ خدا نے ان کی رُوح پر اپنے ہاتھ سے وہ کام کیا ہے جو کوٹنے اور ہموار کرنے کے آلات سے اس سڑک پر کیا جاتا ہے جس کو صاف اور ہموار بنانا چاہتے ہیں۔اور چونکہ مہدی موعود کو بھی عبودیت کا مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے حاصل ہوا۔اس لئے مہدی موعود میں عبد کے لفظ کی کیفیت غلام کے لفظ سے ظاہر کی گئی یعنی اُس کے نام کو غلام احمد کر کے پکارا گیا۔یہ غلام کا لفظ اس عبودیت کو ظاہر کرتا ہے جو ظنی طور پر مہدی موعود میں بھی ہونی چاہیے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۹۵،۳۹۴ حاشیه ) یہ مرتبہ عبودیت کاملہ جو انسان اپنی عملی تکمیل محض خدا تعالیٰ کی طرف سے دیکھے بجز اس مہدی کامل کی جس کی عملی تکمیل تمام و کمال محض خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے ہوئی ہو دوسرے کو میسر نہیں آ سکتا کیونکہ اپنی جہد اور کوشش کا اثر ضرور ایک ایسا خیال پیدا کرتا ہے کہ جو عبودیت تامہ کے منافی ہے۔اس لئے مرتبہ عبودیت کاملہ بھی بوجہ اس کے جو مرتبہ مہدویت کاملہ کے تابع ہے بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی دوسرے کو بوجہ کمال حاصل نہیں۔ذلِكَ فَضْلُ الله يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ (المائدة : ۵۵) فَاشْهَدُوا أَنَّا نَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عبد الله وَرَسُوله - ایام صلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۹۴نوٹ ) بعض لوگ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات اسی جسم کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں مگر وہ نہیں دیکھتے کہ قرآن شریف اس کو رد کرتا ہے اور حضرت عائشہ بھی رویا کہتی ہیں۔