تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 103
سورة بنی اسراءیل تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الْقُدْسِيَّةِ وَالْإِفَاضَةِ الرُّوحَانِيَّةِ كَمَا كَانَ فِي اپنے روحانی افاضہ کے ساتھ موجود نہ ہوں جیسا کہ الصَّحَابَةِ أَغْنِى بِوَاسِطَةِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ صحابہ کے اندر موجود تھے یعنی مسیح موعود کے واسطہ الَّذِى هُوَ مَظْهَرُ لَّهُ أَوْ كَالْحُلَّةِ فَقَد ثَبَتَ مِنْ سے کیونکہ وہ نبی کریم کا مظہر یا آنجناب کے لئے حلہ هذَا النَّضِ الطَّرِيح مِنَ الصُّحُفِ الْمُطَهَّرَةِ أَنَّ کی مانند ہے پس اس نص صریح سے ظاہر ہوا کہ مِعْرَاجَ نَبِيَّنَا كَمَا كَانَ مَكَانِيًّا كَذَالِكَ كَانَ ہمارے نبی کا معراج مکانی اور زمانی دونوں طرح زَمَانِيًّا، وَلَا يُنْكِرُهُ إِلَّا الَّذِي فَقَدَ بَصَرَهُ وَصَارَ سے تھا اور اس نکتہ کا سوائے اندھے کے اور کوئی مِنَ الْعَبِينَ وَلَا شَكَ وَلَا رَيْبَ أَنَّ الْمِعْرَاجَ انکار نہیں کرتا اور شک نہیں کہ اس آیت کا مفہوم الزَّمَانِي كَانَ وَاجِبًا تَحْقِيقًا لِمَفهُوْمِ هَذِهِ الْآيَةِ واجباً معراج زمانی کو چاہتا تھا اور اگر وہ متفق نہ ہوتا وَلَوْ لَمْ يَكُن لَّبَطَلَ مَفَهُوَمُهَا كَمَا لا يخفى على تو اس آیت کا مفہوم باطل ہو جا تا چنانچہ اس نکتہ کو أَهْلِ الْفِكْرِ وَالدِّرَايَةِ، فَثَبَتَ مِنْ هَذَا أَنَ اہل فکر اور غور سمجھتے ہیں۔پس یہاں سے ثابت ہوا الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدَ مَظْهَرُ لِلْحَقِيقَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ - مسیح موعود محمدی حقیقت کا مظہر ہے اور جلالی حلوں وَنَازِلٌ فِي الْحُلَلِ الْجَلالِيَّةِ، فَلِذَالِكَ عُدَّ ظُهُورُة میں نازل ہوا ہے اسی لئے خدا کے نزدیک اس کا ظہور عِنْدَ اللهِ ظُهُورَ نَبِيَّهِ الْمُصْطَفى، وَعُدَّ زَمَانُه نبی مصطفی کا ظہور مانا گیا ہے اور اس کا زمانہ رسول کریم مُنْتَهَى الْمِعْرَاجِ الزَّمَانِي لِلرَّسُوْلِ الْمُجْتَنِي کے زمانی معراج کا منتہا اور خیر الورٹی کی روحانی وَكَانَ هَذَا وَعْدًا مُؤكدًا مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ۔وَمُنْتَهى تَجَلَّى رُوحَانِيَّةِ سَيِّدِنَا خَيْرِ الْوَرى تجلی کا آخری سرا شمار کیا گیا ہے اور جہان کے (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۸۹ تا ۲۹۷ حاشیه پروردگار کا یہ پختہ وعدہ تھا۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) معراج کے لئے رات اس لئے مقرر کی گئی کہ معراج کشف کی قسم تھا۔اور کشف اور خواب کے لئے رات موزوں ہے۔اگر یہ بیداری کا معاملہ ہوتا تو دن موزوں ہوتا۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۱۰ حاشیہ ) فَإِنَّ الْمِعْرَاجَ عَلَى الْمَذْهَبِ الصَّحِيحِ كَانَ | معراج کے بارے میں صحیح مذہب یہ ہے کہ وہ كَشَفًا لَّطِيْفًا مَعَ الْيَقْظَةِ الرُّوحَانِيَّةِ كَمَا لاَ ایک لطیف کشف تھا جو روحانی بیداری کی حالت میں يخفى عَلَى الْعَقْلِ الْوَهَّاجِ وَمَاصَعِدَ إِلَى ہوا جیسا کہ روشن عقل کے لئے واضح ہے۔اور آسمان السَّمَاءِ الْارُوْحُ سَيّدِنَا وَلَبِيْنَا مَعَ جِسم کی طرف صرف ہمارے آقا اور نبی صلعم کی روح