تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 101
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+1 سورة بنی اسراءیل عَلى أَنَّ الْكَافِرِينَ قَدْ حُرِّمَ عَلَيْهِمْ فِي زَمَن حرام کی گئی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ النَّبِي عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنْ يَضُرُّوا الدِّينَ میں دین کو فریب اور حیلوں سے ضرر پہنچائیں یا بِالْمَكَائِدِ أَوْ يَأْتُوهُ كَالصَّائِدِ، وَعَصَمَ اللهُ نَبِيَّه شکاریوں کی طرح اس پر برس پڑیں اور خدا نے اپنے وَدِينَهُ وَبَيْتَهُ مِنْ صَوْلِ الضَّائِلِينَ وَجَوْرِ نبی کو اور اپنے دین اور اپنے گھر کو حملہ آوروں کے حملہ الْجَائِرِينَ۔وَمَا اسْتَأَصَلَ اللهُ فِي ذَالِكَ الزَّمَنِ سے اور بیداد گروں کے بیداد سے بچائے رکھا اور اس أَعْدَاء الدين على الاستيْصَالِ، وَلكِن حَفِظ زمانہ میں دین کے دشمنوں کو جیسا کہ چاہئے تھا جڑ سے الدين من صَوْلِهِمْ وَحَرَّمَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَغْلِبُوا نہیں اکھاڑا لیکن دین کو ان کے حملہ سے محفوظ رکھا اور عِندَ الْقِتَالِ قبلة أَمْرُ تَأْبِيْدِ الدِّينِ من حرام کر دیا کہ لڑائی میں غالب رہیں۔پس دین کی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَعْنِى مِن ذَبْ الْعَامِ، ثُمَّ تائید کا امر مسجد حرام سے یعنی لیموں کے دفع کرنے يَيم هذَا الْأَمْرُ عَلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِى سے شروع ہوا پھر یہ امر مسجد اقصیٰ پر تمام ہو گا۔یہ وہ يَبْلُغُ فِيهِ نُورُ الدِّينِ إِلى أَقْصَى الْمَقَامِ مسجد ہے جس میں دین کا نور اقصیٰ کے مقام تک كَالْبَدْرِ الثَّامِ، وَيَلْزَمُهُ كُلُّ بَرَكَةٍ يُتَوَقِّعُ پورے چاند کی طرح پہنچے گا اور ہر ایک برکت جو ایسے وَيُتَصَوَّرُ عِنْدَ كَمَالٍ لَّيْسَ فَوْقَهُ كَمَال کمال کے وقت میں جس کے اوپر کوئی کمال نہ ہو تصور وَهَذَا وَعْد من الله الْعَلامِ۔فَكَانَ الْمَسْجِدُ میں آوے اس کے لازم حال ہوتی ہے اور یہ خدائے علیم الحَرَامُ يُبَيِّرُ بِدَفْعِ القير والحفظ من کا وعدہ ہے پس مسجد حرام شر کے دور ہونے اور الشَّرِ وَالْحِفْظُ الْمَكْرُوهَاتِ، وَأَمَّا الْمَسْجِدُ الْأَقْضَى فَيُشيرُ مکروہات سے محفوظ رہنے کا مردہ دیتی ہے لیکن مسجد مَفْهُومُهُ إِلى تَحْصِيلِ الْخَيْرَاتِ وَأَنْوَاعِ اقصیٰ کا مفہوم اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ الْبَرَكَاتِ وَالْوُصُولِ إِلى أَعلَى التَّرَقِيَّاتِ رنگ برنگ کے برکات اور خیرات اور ترقیات عالیہ فَبُدِ أَمْرُ دِينِنَا مِنْ دَفْعِ الضَّيْرِ، وَيَتِمُّ عَلَى حاصل ہوں۔پس ہمارے دین کا امر دفع ضرر سے استكمال الخير وَإِنَّ فِيهِ آيَاتٍ شروع ہوا اور خیر کی تکمیل پر تمام ہوگا اور اس بیان میں لِلْمُتَدَرِينَ ثُمَّ إِنَّ ايَةَ الإِسْتَرَاء تَدُلُّ عَلى غور کرنے والوں کے لئے نشان ہیں۔پھر اسرٹی کی نُكْتَةٍ وَجَبَ ذِكْرُهَا لِلأَصْدِقَاءِ لِيَزْدَادُوا آیت ایک عجیب نکتہ رکھتی ہے کہ اس کا ذکر عِلْمًا وَيَقِيْنَا، فَإِنَّ خَيْرَ الْأَمْوَالِ الْعِلْمُ دوستوں کے لئے ضروری ہے تا علم اور یقین زیادہ ہو