تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 102
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۲ سورة بنی اسراءیل وَالْيَقِينُ، وَهُوَ أَنَّ الْإِسْرَاءَ مِنْ حَيْثُ الزَّمَانِ اور خوب ظاہر ہے کہ سب سے بہترین مال اور دولت كَانَ وَاجِبًا كَوُجُوبِ الْإِسْرَاء مِنْ حَيْثُ علم اور یقین ہے اور وہ یہ کہ اسری زمان اور مکان کی الْمَكَانِ، لِيَتِمَّ سَيْرُ نَبَيْنَا زَمَانًا وَمَكَانًا حیثیت سے دونوں طرح واجب اور لازم تھا اس وَلِيَكُمُل أَمْرُ مِعْرَاجِ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَلَا جہت سے کہ ہمارے نبی کا سیر زمان اور مکان کے شَكَ أَنَّ أَقْصَى الزَّمَانِ لِلْمِعْرَاجِ الزَّمَانِي هُوَ رو سے تمام ہو اور معراج کا امر کامل ہو اور اس میں زَمَانُ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ وَهُوَ زَمَانُ كَمَالِ شک نہیں کہ نبی کریم کے زمانی معراج کے لئے البَرَكَاتِ وَيَقْبَلُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ مِنْ غَيْرِ الْجُعُوْدِ انتہائی زمانہ مسیح موعود کا زمانہ ہے اور وہ برکات کے وَلَا شَكَ أَنَّ مَسْجِد الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ هُوَ کمال کا زمانہ ہے اور اس کو ہر ایک مومن بغیر انکار أَقْصَى الْمَسَاجِدِ مِنْ حَيْثُ الزَّمَانِ مِنَ کے قبول کر سکتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ مسیح الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَقَدْ مُلأُ مِنْ كُلِّ جَنْبِ بَرَكَةً موعود کی مسجد مسجد حرام کی نسبت سے زمانہ کی حیثیت وَنُورًا كَالْبَدْرِ الثَّاقِ، لِيَكُمُلَ بِهِ دَائِرَةُ الدِّينِ سے اقصیٰ مسجد ہے اور یقینا اس مسجد کا ہر ایک پہلو فَإِنَّ الْإِسْلَامَ بُدِءَ كَالْهَلَالِ مِنَ الْمَسْجِدِ برکت اور نور سے پورے چاند کی طرح بھر گیا ہے الْحَرَامِ، ثُمَّ صَارَ فَمَرًا تَأَمَّا عِنْدَ بُلُوغِهِ إِلَى تاکہ اس کے وسیلہ سے دین کا دائرہ کامل ہو جائے الْمَسْجِدِ الْأَقْضى وَلِذَالِكَ ظَهَرَ الْمَسِيحُ فی کیونکہ اسلام بلال کی مانند مسجد حرام سے ظاہر ہوا عِدَّةِ البَدْرِ إِشَارَةٌ إلى هَذَا الْمَقَامِ ثُمَّ هُنَا پھر جب مسجد اقصیٰ تک پہنچا بدر کامل ہو گیا اسی لئے دَلِيلٌ آخَرُ عَلى وُجُوبِ الإِسْترَاءِ الزَّمَانِي مِن مسیح موعود بدر کے شمار میں ظاہر ہوا۔پھر دوسری دلیل الْأَمْرِ الرَّيَّانِي وَهُوَ أَنَّ اللهَ تَعَالَى قَدْ أَشَارَ في اسراء زمانی کے وجوب پر یہ ہے کہ حق تعالی اخرین قَوْلِهِ وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ إِلى مِنْهُمْ کے قول میں اشارہ فرماتا ہے کہ مسیح موعود کی لے ،، أَنَّ جَمَاعَةَ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ عِنْدَ اللهِ مِنَ جماعت خدا کے نزدیک صحابہ کی ایک جماعت ہے الصَّحَابَةِ مِنْ غَيْرِ فَرْقٍ فِي التَّسْمِيَةِ، وَلَا اور اس نام رکھنے میں کچھ فرق نہیں اور یہ مرتبہ مسیح کی يَتَحَقَّقُ هَذِهِ الْمَرْتَبَةُ لَهُمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ جماعت کو ہرگز حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ نبی کریم النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ بِقُوَّتِهِ صلى اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان قدسی قوت اور الجمعة : ۴