تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page 100

سورة بنی اسراءیل تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام كُلِ أَفَةٍ وَأَمَّا قَوْلُهُ عَزَّ اسْمُهُ بَعْد هذا رکھے۔آیت میں الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کے بعد کا حصہ یعنی الْقَوْلِ اَغْنِى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ اس زمانہ پر دلالت فَيَدُلُّ عَلى زَمَانٍ فِيْهِ يَظْهَرُ بَرَكَاتُ في کرتا ہے جس میں زمین پر ہر جہت سے برکات کا ظہور الْأَرْضِ مِنْ كُلِّ جِهَةٍ كَمَا ذَكَرْنَاهُ انِفًا ہوگا جیسا کہ ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں اور یہ مسیح موعود وَهُوَ زَمَانُ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوْدِ وَالْمَهْدِي اور مہدی معہود کا زمانہ ہے۔اور مسجد اقصیٰ وہ مسجد ہے الْمَعْهُودِ وَالْمَسْجِدُ الْأَقْضى هُوَ الْمَسْجِدُ جس کو مسیح موعود نے قادیان میں بنایا۔اسے اقصیٰ (یعنی الَّذِي بَنَاهُ الْمَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ فِي الْقَادِيَانِ دور والی ) مسجد اس لئے قرار دیا گیا کہ وہ زمانہ نبوت سُمِّيَ أَقْصَى لِبُعْدِهِ مِنْ زَمَانِ النُّبُوَّةِ وَلِمَا سے دور ہے اور ابتدائے اسلام کے زمانہ سے ایک وَقَعَ فِي أَقْضَى طَرَفٍ مِنْ زَمَنِ ابْتِدَاء طرف واقع ہے۔پس تو اس مقام پر غور کر کیونکہ اس الْإِسْلَامِ فَتَدَبَّرُ هَذَا الْمَقَامَ فَإِنَّهُ أُوْدِعَ میں خدائے علام الغیوب کی طرف سے بہت سے راز إسْرَارًا مِّنَ اللهِ الْعَلَامِ ودیعت کئے گئے ہیں۔(ترجمہ از مرتب) خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج تین قسم پر منقسم ہے۔سیر مکانی اور سیر زمانی اور سیر لا مکانی ولا زمانی۔سیر مکانی میں اشارہ ہے طرف غلبہ اور فتوحات پر یعنی یہ اشارہ کہ اسلامی ملک مکہ سے بیت المقدس تک پھیلے گا۔اور سیر زمانی میں اشارہ ہے طرف تعلیمات اور تاثیرات کے یعنی یہ کہ مسیح موعود کا زمانہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات سے تربیت یافتہ ہوگا جیسا کہ قرآن میں فرمایا ہے وَآخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ( الجمعة : ۴) اور سیر لامکانی ولا زمانی میں اشارہ ہے طرف اعلیٰ درجہ کے تقرب اللہ اور مدانات کی جس پر دائرہ امکان قرب کا ختم ہے۔(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ۲۵ تا ۲۶ حاشیه ) وَ إِنَّ في لفظ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَلَفظ مسجد حرام کے لفظ میں اور مسجد اقصیٰ کے لفظ میں الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِى جُعِلَ مِنْ وَصْفِهِ جس کے وصف میں بَارَكْنَا حَوْلَهُ مذکور ہوا ہے جُمْلَةُ بَارَكْنَا حَوْلَهُ إِشَارَةً لَّطِيفَةً لطیف اشارہ ہے ان کے لئے جو فکر کرتے ہیں اور وہ لِلْمُتَفَكِّرِيْنَ وَهُوَ أَنَّ لَفَظَ الْحَرَامِ يَدلُّ یہ ہے کہ لفظ حرام ظاہر کرتا ہے کہ کافروں پر یہ بات