تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page xii
xi مضمون مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ اَعلیٰ کا مفہوم یہی ہے کہ بہشتی زندگی اور جہنمی نابینائی کی جڑ اسی جہان سے پڑتی ہے اس زمانے میں یقین کامل کا ذریعہ کون سا ہے کیوں کر قبول کیا جائے کہ ایک شخص اولیاء میں داخل ہو پھر خدا اسے ایسا اندھا رکھے کہ اس کے نبی کو شناخت نہ کر سکے مومن کا معراج اور کمال یہی ہے کہ وہ علماء کے درجہ پر پہنچے پنجگانہ نماز کے اوقات انسانی زندگی کے لازم حال پانچ تغیر ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مظہر اتم الوہیت ہیں قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ میں حق اور باطل سے مراد آریہ کا اعتقاد کہ کل ارواح انادی اور قدیم اور غیر مخلوق ہیں اگر ارواح اور اجسام خود بخود قدیم اور انادی ہیں تو خدا کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں ہو سکتی عیسائیوں کے قول کہ حضرت مسیح کلمۃ اللہ ہیں کا قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ ربی میں جواب ارواح کے حادث اور مخلوق ہونے کے قرآن شریف میں قوی اور قطعی دلائل وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِیلا کے مخاطب آنحضرت صلی اللہ علیہ صفحه ۱۳۶ ۱۳۷ ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۵۰ ۱۵۲ ۱۵۳ ۱۵۵ ۱۵۵ ۱۵۸ ۱۵۸ ١٦٠ ۱۶۲ ١۶۶ ۱۶۷ وسلم نہیں بلکہ کفار ہیں روح کے رحم میں پیدا ہونے سے مراد قرآن روح کو مخلوق بھی مانتا ہے اور فانی بھی قبور کے ساتھ تعلق ارواح نمبر شمار ۷۵ ۷۶ ۷۸ ۷۹ ۸۰ M ۸۲ ۸۳ لد ۸۵ ۸۶ ۸۷ ۸۸ ۸۹