تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page x
صفحه १५ ۹۹ ۱۰۰ ۱۰۰ ۱۰۵ ۷۰۱ ۱۰۹ ۱۱۰ ۱۱۱ ۱۱۳ ۱۱۴ ix مضمون آیت سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بَرَكْنَا حَوله معراج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا الخ میں دو زمانوں کی طرف اشارہ ۔ ا۔ تائیدات اور آفات کے دور کرنے کا زمانہ ۔ ۲۔ برکات اور پاکیزہ تعلیمات کے پھیلانے کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج تین قسم پر منقسم ہے سیر مکانی اور سیر زمانی اور سیر لا مکانی ولا زمانی مسجد حرام کے لفظ میں اور مسجد اقصیٰ کے لفظ میں جس کے وصف میں بركنا حوله مذکور ہوا ہے لطیف اشارہ ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبد بھی ہے ہم نے رات اور دن دو نشانیاں بنائی ہیں۔ یعنی انتشار ضلالت جو رات سے مشابہ ہے اور انتشار ہدایت جو دن سے مشابہ ہے وَكُلَّ إِنْسَانِ الْزَمْنَهُ طَيرَةً فِي عُنقہ میں جو طائر کا لفظ ہے استعارہ کے طور پر اس سے مراد عمل بھی ہے نبی عذاب کو نہیں لاتا بلکہ عذاب کا مستحق ہو جانا اتمام حجت کے لیے نبی کو لاتا ہے وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا میں مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی دنیوی عذاب کا موجب کفر نہیں ہے بلکہ شرارت اور تکبر میں حد زیادہ بڑھ جانا موجب ہے احد سے فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرُهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا کے مخاطب تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن دراصل مرجع کلام امت کی طرف ہے نمبر شمار ۵۱ ۵۲ ۵۳ ولد ۵۵ ۵۶ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ ٦١