تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page x of 444

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۵) — Page x

صفحہ ۹۶ ۹۹ 1++ : 1++ ۱۰۵ ۱۰۸ 1+9 11۔111 ۱۱۳ ۱۱۴ ix مضمون آیت سُبُحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِى بُرَكْنَا حَولَة معراج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے 1199 سُبُحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِ؟ لیلا الخ میں دو زمانوں کی طرف اشارہ - ا۔تائیدات اور آفات کے دور کرنے کا زمانہ۔۲۔برکات اور پاکیزہ تعلیمات کے پھیلانے کا زمانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج تین قسم پر منقسم ہے سیر مکانی اور سیر زمانی اور سیر لا مکانی ولا زمانی مسجد حرام کے لفظ میں اور مسجد اقصیٰ کے لفظ میں جس کے وصف میں بركنا حوله مذکور ہوا ہے لطیف اشارہ ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبد بھی ہے ہم نے رات اور دن دو نشانیاں بنائی ہیں۔یعنی انتشار ضلالت جو رات سے مشابہ ہے اور انتشار ہدایت جو دن سے مشابہ ہے وَكُلَّ اِنْسَانِ الزَمْنَهُ طَبَرَةُ فِي عُنقہ میں جو طائر کا لفظ ہے استعارہ کے طور پر اس سے مراد عمل بھی ہے نبی عذاب کو نہیں لاتا بلکہ عذاب کا مستحق ہو جانا اتمام حجت کے لیے نبی کو لاتا ہے وَمَا كُنَّا مُعَدِ بِيْنَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولاً میں مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی مُعَذِّبِينَ دنیوی عذاب کا موجب کفر نہیں ہے بلکہ شرارت اور تکبر میں حد سے زیادہ بڑھ جانا موجب ہے فَلَا تَقُل لَّهُمَا أَفْ وَلَا تَنْهَرُهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا کے مخاطب تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن دراصل مرجع کلام امت کی طرف ہے نمبر شمار ۵۱ ۵۲ ۵۳ ۵۴ ۵۵ ۵۷ ۵۸ ۵۹ ۶۰ ۶۱