تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 54

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۴ سورة المائدة تعالیٰ کے نزدیک قطعی طور پر اس کا نام عیسی بن مریم ہے جیسے یہودیوں کے نام خدائے تعالیٰ نے بندر اور سور رکھے اور فرما دیا: وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِیر ایسا ہی اس نے اس امت کے مفسد طبع لوگوں کو یہودی ٹھہرا کر اس عاجزہ کا نام سیح ابن مریم رکھ دیا اور اپنے الہام میں فرما دیا : جَعَلْنَكَ الْسَبيحَ ابْنَ مَرْيَمَ - (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۰۹) خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کا رشتہ نہیں اور وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔وہ اولاد جو انبیاء کی اولاد کہلاتی تھی یعنی بنی اسرائیل جن میں کثرت سے نبی اور رسول آئے اور خدا تعالیٰ کے عظیم الشان فضلوں کے وہ وارث اور حقدار ٹھہرائے گئے تھے۔لیکن جب اس کی روحانی حالت بگڑی اور اس نے راہ مستقیم کو چھوڑ دیا سرکشی اور فسق و فجور کو اختیار کیا، نتیجہ کیا ہوا؟ وہ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ ( البقرۃ : ۶۲) کی مصداق ہوئی خدا تعالی کا غضب ان پر ٹوٹ پڑا اور ان کا نام سؤر اور بندر رکھا گیا یہاں تک وہ گر گئے کہ انسانیت سے بھی ان کو خارج کیا گیا یہ کس قدر عبرت کا مقام ہے بنی اسرائیل کی حالت ہر وقت ایک مفید سبق ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۳) وَ تَرى كَثِيرًا مِنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَ أَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِثْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ لَوْ لَا يَنْصُهُمُ الرَّنِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَ اللهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ ) اور اکثر اہل کتاب کو تو دیکھے گا کہ گناہ کے کاموں کی طرف دوڑتے ہیں اور حرام کھاتے ہیں، کیا ہی برے یہ کام اور بداعمالیاں ہیں کہ یہ لوگ کر رہے ہیں ان کے مشائخ اور علماء کیوں ان برے کاموں سے ان کو منع نہیں کرتے اور دیکھتے ہیں کہ وہ جھوٹ بولتے اور جھوٹی گواہیاں دیتے ہیں اور حرام کھاتے ہیں پھر بھی چپ رہتے ہیں پس یہ ان کے علماء بھی برے کام کر رہے ہیں کہ خاموش رہ کر ان کی بدی میں آپ بھی شریک ہیں۔(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۳۹) وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللهِ مَغْلُولَةٌ غُلَتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا بَلْ يَدَهُ مَبْسُوطَتَنِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ وَلَيَزِيدَنَ كَثِيرًا مِنْهُم مَّا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ