تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 53

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۳ سورة المائدة کہ اگر اس جماعت سے ایک نکل جائے گا تو خدائے تعالیٰ اس کی جگہ ہیں لائے گا اور اس آیت پر غور کریں: فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَةٌ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَفِرِينَ - آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۴۶، ۳۴۷) عبد الغفور نامی ایک شخص کے آریہ مذہب اختیار کرنے پر فرمایا کہ ) اس طرح کے ارتداد سے اسلام کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا۔یکجائی نظر سے دیکھنا چاہیے کہ آیا اسلام ترقی کر رہا ہے یا تنزل۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت جو بعض لوگ مرتد ہو جاتے تھے تو کیا ان سے اسلام کو نقصان پہنچتا تھا؟ ہر گز نہیں! بلکہ میرا خیال ہے کہ یہ پہلو انجام کار اسلام کو ہی مفید پڑتا ہے اور اس طرح سے اہل اسلام کے ساتھ اختلاط کی ایک راہ کھلتی ہے اور جب خدا تعالیٰ نے ایک جماعت کی جماعت اسلام میں داخل کرنی ہوتی ہے تو ایسا ہوا کرتا ہے کہ اہل اسلام میں (سے) کچھ ادھر چلے جاویں خدا کے کام بڑے دقیق اور اسرار سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آیا کرتے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ / جولائی ۱۹۰۳ء صفحه ۲۰۹) خدا تعالیٰ نے مومنوں کی صفت فرمائی ہے: لَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لا پچھ کہ وہ کسی ملامت کرنے والے کی علامت سے نہیں خوف کھاتے اور صرف اپنے مولا کی رضا مندی کو مقدم رکھتے ہیں۔مومن ایک لا پروا انسان ہوتا ہے اسے صرف خدا کی رضا مندی کی حاجت ہوتی ہے اور اسی کی اطاعت کو وہ ہر دم مد نظر رکھتا ہے کیونکہ جب اس کا معاملہ خدا سے ہے تو پھر اسے کسی کی ضرر اور نفع کا کیا خوف ہے۔(البدر جلد ۳ نمبر ۳۱ مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۴ء صفحه ۳) دیکھو جو امور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہیے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہل حق کا قاعدہ نہیں صحابہ کرام کے طرز عمل پر نظر کرو وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا وہ صاف صاف کہہ دیا اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجھکے۔جبھی تو لا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لابِ کے مصداق ہوئے۔البدر جلدے نمبر ۹ مورخہ ۵ / مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۲) قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٌ مِنْ ذَلِكَ مَثْوَبَةً عِنْدَ اللهِ مَنْ لَعَنَهُ اللهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَا زِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولَبِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَ أَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ۔یہ ضرور نہیں کہ آنے والے کا نام در حقیقت عیسی ابن مریم ہی ہو بلکہ احادیث کا مطلب یہ ہے کہ خدائے