تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 55 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 55

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۵۵ سورة المائدة طُغْيَانًا وَكُفْرًا وَ الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ كُلَّمَا أوقَدُوا نَارًا للحرب أطْفَاهَا اللهُ وَيَسْعَونَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ۔(۶۵) یہود نے کہا کہ خدا کا ہاتھ باندھا ہوا ہے یعنی جو کچھ ہے انسان کی تدبیروں سے ہوتا ہے اور خدا اپنے قادرانہ تصرفات سے عاجز ہے سو خدا نے ہمیشہ کے لیے یہودیوں کے ہاتھ کو باندھ دیا ہے تا اگر ان کے فکر اور ان کی تدبیریں کچھ چیز ہیں تو ان کے زور سے دنیا کی حکومتیں اور بادشاہتیں حاصل کر لیں۔(براہین احمدیہ چهار تصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۴۹ حاشیه ۱۱) ہمارے مخالف مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ آخری زمانہ میں ایک خونی مہدی ظاہر ہوگا اور وہ تمام عیسائیوں کو ہلاک کر دے گا اور زمین کو خون سے بھر دے گا اور جہاد ختم نہیں ہوگا جب تک وہ ظاہر نہ ہو اور اپنی تلوار سے ایک دنیا کو ہلاک نہ کرے یہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو قرآن کے نص صريح : وَ الْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إلى يَوْمِ الْقِيمَةِ سے مخالف اور منافی ہیں ہر ایک مسلمان کو چاہیے کہ ان باتوں پر ہرگز اعتقاد نہ رکھے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۲۲، ۲۲۳) یہود اور نصاریٰ میں قیامت تک بغض اور دشمنی رہے گی تو اب بتلاؤ کہ جب تمام یہودی قیامت سے پہلے ہی حضرت مسیح پر ایمان لے آئیں گے تو پھر بغض اور دشمنی قیامت تک کون لوگ کریں گے۔جب یہودی نہ رہے اور سب ایمان لے آئے تو پھر بغض اور دشمنی کے لیے کون موقعہ اور محل رہا اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ ( المائدة : ۱۵) اس کے بھی یہی معنی ہیں جو او پر گزر چکے اور وہی اعتراض ہے جو اوپر بیان ہو چکا اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ (ال عمران :۵۶) اس جگہ کفروا سے مراد بھی یہود ہیں کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام محض یہودیوں کے لیے آئے تھے اور اس آیت میں وعدہ ہے کہ حضرت مسیح کو ماننے والے یہود پر قیامت تک غالب رہیں گے اب بتلاؤ کہ جب ان معنوں کے رو سے جو ہمارے مخالف آیت : إِنْ مِّنْ أَهْلِ الكتب ( النساء : ١٦٠) کے کرتے ہیں تمام یہودی حضرت عیسی پر ایمان لے آئیں گے تو پھر یہ آیتیں کیوں کر صحیح ٹھہر سکتی ہیں کہ یہود اور نصاریٰ کی قیامت تک باہم دشمنی رہے گی اور نیز یہ کہ قیامت تک یہود ایسے فرقوں کے مغلوب رہیں گے جو حضرت مسیح کو صادق سمجھتے ہوں گے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۰۹)