تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 39

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۹ سورة المائدة انہوں نے حضرت موسیٰ کو یہ جواب دیا تھا: فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ یعنی تُو اور تیرا رت دونوں جا کر دشمنوں سے لڑائی کرو ہم تو اسی جگہ بیٹھیں گے ، یہ حال تھا اُن کی فرمانبرداری کا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے دلوں میں وہ جوش عشق الہی پیدا ہوا اور تو جہ قدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تاثیر اُن کے دلوں میں ظاہر ہوئی کہ انہوں نے خدا کی راہ میں بھیڑوں اور بکریوں کی طرح سر کٹائے۔کیا کوئی پہلی اُمت میں ہمیں دکھا سکتا ہے یا نشان دے سکتا ہے کہ انہوں نے بھی صدق اور صفا دکھلایا ؟ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۱، ۱۰۲ حاشیه ) بنی اسرائیل کے حالات اور واقعات کو بنظر غور دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ان کی اصل غرض موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کی کیا تھی ؟ بڑی بھاری غرض یہی تھی کہ وہ فرعون کی غلامی سے نکلیں چنانچہ روحانی امور اور خدا پرستی کے متعلق وہ ہمیشہ ٹھوکر کھاتے رہے اور بے جا گستاخیوں اور شوخیوں سے کام لیتے رہے یہاں تک کہ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللهَ جَهْرَةٌ ( البقرة :۵۲) اور اِذْهَبُ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَا هُهُنَا قُعِدُونَ جیسے کلمات کہنے اور ذراسی غیر حاضری میں گوسالہ پرستی کرنے سے باز نہ آئے اور بات بات میں ضد اور اعتراض سے کام لیتے ان کے حالات پر پوری نظر کے بعد صاف معلوم دیتا ہے کہ وہ صرف ( اور ) صرف فرعون کی غلامی سے ہی آزاد ہونا چاہتے تھے خود اپنے آپ میں رہبری اور سرداری کی قوت نہ رکھتے تھے۔اس لیے موسیٰ علیہ السلام کی بات سنتے ہی طیار ہو گئے۔چونکہ بہت تنگ آچکے تھے اور مرتا کیا نہ کرتا اپنی سرخروئی انہوں نے اس میں سمجھی ، حضرت موسیٰ کے ساتھ نکل پڑے لیکن آخر موسیٰ کی کامیابیوں کی راہ میں ٹھوکر کا پتھر بنے۔غرض حضرت موسیٰ کو بہت محنت و مشقت کرنے کی ضرورت نہ پڑی قوم زندان غلامی میں گرفتار تھی اور طیار تھی کہ کوئی آئے تو اسے قبول کر لیں۔ایسی حالت میں کئی لاکھ آدمیوں نے ایک دن میں قبول کر لیا اور انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دکھایا کہ وہ کیسی قوم ہے اور موسیٰ کی تعلیم سے انہوں نے کیا فائدہ اٹھایا ہے پس یہاں تک کہ ان کو مصر سے نکال لیا کوئی بڑا کام نہ تھا۔اصلاح کا زمانہ جب آیا اور موسیٰ نے جب چاہا کہ ان کو خدا پرست قوم بنا کر وعدہ کی سرزمین میں داخل کریں وہ ان کی شوخیوں اور گستاخیوں اور اندرونی بد اعمالیوں میں گزرا یہاں تک کہ خود حضرت موسیٰ بھی اس سرزمین میں داخل نہ ہو سکے۔الحکم جلد ۵ نمبر ۲ مورخه ۱۷ جنوری ۱۹۰۱ء صفحه ۲)