تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 38
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸ سورة المائدة آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا: قُلْ يُعِبَادِی ) الزمر : ۵۴)۔جس کے معنے ہیں کہ اے میرے بندو! اب ظاہر ہے کہ وہ لوگ خدا تعالیٰ کے بندے تھے نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے اس فقرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے الفاظ کا اطلاق استعارہ کے رنگ میں کہاں تک وسیع ہے۔البدر جلد ۶ نمبر ۴۵ مورخہ ۷ /نومبر ۱۹۰۷ء صفحه ۳) ياهل الكتب قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنَ لَكُمْ عَلى فَتُرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُولُوا b مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُم بَشِيرٌ وَنَذِيرُ ۖ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قديرن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت ایک ایسی ظلمانی حالت پر زمانہ آچکا تھا کہ جو آفتاب صداقت کے ظاہر ہونے کے متقاضی تھے اس جہت سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں اپنے رسول کا بار بار یہی کام بیان کیا ہے کہ اس نے زمانہ کو سخت ظلمت میں پایا اور پھر ظلمت سے ان کو باہر نکالا۔( براہینِ احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۷ ۶۴) نذیر کا لفظ اسی مرسل کے لیے خدا تعالیٰ استعمال کرتا ہے جس کی تائید میں یہ مقدر ہوتا ہے کہ اس کے منکروں پر کوئی عذاب نازل ہوگا کیونکہ نذیر ڈرانے والے کو کہتے ہیں اور وہی نبی ڈرانے والا کہلاتا ہے جس کے وقت میں کوئی عذاب نازل ہونا مقدر ہوتا ہے۔پس آج سے چھپیں ۲۶ برس پہلے جو براہین احمدیہ میں میرا نام نذیر رکھا گیا اس میں صاف اشارہ تھا کہ میرے وقت میں عذاب نازل ہوگا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۸۶) قَالُوا يَمُوسَى إِنَّا لَنْ نَدخُلَهَا أَبَدًا مَا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا انا ههنا قَعِدُونَ توریت میں جابجا حضرت موسیٰ کے صحابہ کا نام ایک سرکش اور سخت دل اور مرتکب معاصی اور مفسد قوم لکھا ہے جن کی نافرمانیوں کی نسبت قرآن شریف میں بھی یہ بیان ہے کہ ایک لڑائی کے موقع کے وقت میں