تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 40 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 40

سورة المائدة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو کہا کہ بڑھ کر دشمن پر حملہ کرو تو انہوں نے کیا شرمناک جواب دیا: فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلا انا ههنا قعدون تو اور تیرا رب جاؤ اور لڑ و ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔صحابہ کی لائف میں ایسا کوئی موقع نہیں آیا بلکہ انہوں نے کہا کہ ہم ان میں سے نہیں ہیں جنہوں نے یہ کہا : فَاذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ - ایسی قوت اور شجاعت اور وفاداری کا جوش کیوں کر پیدا ہو گیا تھا؟ یہ سب ایمان اور یقین کا نتیجہ تھا جو آپ کی قوت قدسی اور تاثیر کا اثر تھا آپ نے ان کو ایمان سے بھر دیا تھا۔احکام جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ رنومبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۱۰۱۰) حضرت موسیٰ علیہ السلام قوم کو لے کر نکلتے ہیں مگر وہ اس قوم کو کبھرو کہتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں بات بات پر اعتراض کرنے والے اور انکار کرنے والی قوم تھی۔یہاں تک کہ کہہ دیا: فَاذْهَبُ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَائِلاً إنا ههنا قعدون مگر اس کے بالمقابل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کو دیکھو کہ انہوں نے بکریوں کی طرح اپنا خون بہا دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں ایسے گم ہو گئے تھے کہ وہ اس کے لیے ہر ایک تکلیف اور مصیبت کو اٹھانے کو ہر وقت طیار تھے انہوں نے یہاں تک ترقی کی کہ رضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ( المائدة : ۱۲۰ ) کا سرٹیفکیٹ ان کو دیا گیا۔الحکم جلد ۸ نمبرے مورخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۴، صفحه ۲،۱) وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَا ابْنَى أَدَمَ بِالْحَقِّ ، إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُتِلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَكَ ، قَالَ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ دعا کی راہ میں دو بڑے مشکل امر ہیں جن کی وجہ سے اکثر دلوں سے عظمت دعا کی پوشیدہ رہتی ہے؟ (۱) اول تو شرط تقویٰ اور راست بازی اور خدا ترسی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے : إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ یعنی اللہ تعالیٰ پر ہیز گار لوگوں کی دعا قبول کرتا ہے۔(ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۲۶۰) تقوے کے مدارج اور مراتب بہت ہیں لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور مراحل کو استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ المُتقین گویا اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔یہ گویا اس کا وعدہ ہے اور اس کے وعدوں میں تخلف نہیں ہوتا جیسے کہ فرمایا ہے: اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ ( ال عمران : ١٠) - (رپورٹ جلسہ سالانہ صفحہ ۱۳۳ )