تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 24

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴ سورة المائدة نظارہ آپ نے نہیں دیکھ لیا۔یہ آیت نہ توریت میں ہے نہ انجیل میں۔توریت کا تو یہ حال ہے کہ موسیٰ علیہ السلام راستہ ہی میں فوت ہو گئے اور قوم کو وعدہ کی سرزمین میں داخل نہ کر سکے۔حضرت عیسی علیہ السلام خود کہتے ہیں کہ بہت ہی باتیں بیان کرنے کی تھیں۔کیا قرآن شریف میں بھی ایسا لکھا ہے؟ وہاں تو اکملتُ لکھ ہے۔رہی ان کی تکمیل ! صحابہ کی جو کمیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی وہ اس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کی نسبت فرماتا ہے: مِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ (الآية ) ( الاحزاب : ۲۴ ) اور پھر ان کی نسبت رضی اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (التوبة : ١٠٠) فرمایا لیکن انجیل میں مسیح کے حواریوں کی جو تعریف کی گئی ہے وہ سب کو معلوم ہے کہ جابجا ان کو لا اچھی اور کم ایمان کہا گیا ہے اور عملی رنگ ان کا یہ ہے کہ ان میں سے ایک نے تمیں روپیہ لے کر پکڑوا دیا اور پھر اس نے سامنے لعنت کی۔انصاف کر کے کہو کہ یہ کیسی تکمیل ہے۔اس کے بالمقابل قرآن شریف صحابہ کی تعریف سے بھرا پڑا ہے اور ان کی ایسی تکمیل ہوئی کہ دوسری کوئی قوم ان کی نظیر نہیں رکھتی پھر ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جزا بھی بڑی دی یہاں تک کہ اگر با ہم کوئی رنجش بھی ہو گئی تو اس کے لیے فرمایا: وَنَزَعْنَا مَا في صُدُورِهِمْ مِنْ غِل الآية (الاعراف: ۴۴)۔حضرت عیسی نے بھی حواریوں کو تختوں کا وعدہ دیا تھا مگر وہ ٹوٹ گیا کیونکہ بارہ تختوں کا وعدہ تھا مگر یہودا اسکر یوٹی کا ٹوٹ گیا جب وہ قائم نہ رہا تو اوروں کا کیا بھروسہ کریں۔مگر صحابہ کے تخت قائم رہے دنیا میں بھی رہے اور آخرت میں بھی۔غرض یہ آیت : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِینگم مسلمانوں کے لیے کیسے فخر کی بات ہے۔۔۔۔۔اکمال سے یہی مطلب نہیں کہ سورتیں اتار دیں بلکہ تکمیل نفس اور تطہیر قلب کی ، وحشیوں سے انسان پھر اس کے بعد عقل مند اور با اخلاق انسان اور پھر با خدا انسان بنادیا اور تطہیر نفس، تکمیل اور تہذیب نفس کے مدارج طے کرا دیئے اور اسی طرح پر کتاب اللہ کو بھی پورا اور کامل کر دیا یہاں تک کہ کوئی سچائی اور صداقت نہیں جو قرآن شریف میں نہ ہو۔میں نے اگنی ہوتری کو بارہا کہا کہ کوئی ایسی سچائی بتاؤ جو قرآن شریف میں نہ ہو مگر وہ نہ بتا سکا۔ایسا ہی ایک زمانہ مجھ پر گزرا ہے کہ میں نے بائبل کو سامنے رکھ کر دیکھا جن باتوں پر عیسائی ناز کرتے ہیں وہ تمام سچائیاں مستقل طور پر اور نہایت ہی اکمل طور پر قرآن مجید میں موجود ہیں مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں کو اس طرف توجہ نہیں وہ قرآن شریف پر تدبر ہی نہیں کرتے اور نہ ان کے دل میں کچھ عظمت ہے ورنہ یہ تو ایسا فخر کا مقام ہے کہ اس کی نظیر دوسروں میں ہے ہی نہیں۔غرض الْيَوْمَ أَكمَلْتُ لَكُمْ کی آیت دو پہلو رکھتی ہے؛ ایک یہ کہ تمہاری تطہیر کر چکا، دوئم کتاب مکمل کر چکا،