تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 467

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۴) — Page 23

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳ سورة المائدة افسوس کہ ہمارے مخالف اس نعمت کی طرف متوجہ نہیں۔(الحاکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷اراگست ۱۹۰۵ صفحه ۶) اگر دن تھوڑے بھی ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا میں بسر ہوں تو غنیمت ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام جس ملک میں رہے تھے وہاں کی زندگی صرف ساڑھے تین سال کی ہی رسالت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانه رسالت ۲۳ سال تھا مگر میں جانتا ہوں کہ جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوش قسمتی ثابت ہوتی ہے اور کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں۔امور رسالت میں یہ کامیابی اور سعادت کسی اور کو نہیں ملی۔آپ کی آمد کا وہ وقت تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے خود ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ( الروم :۴۲) سے بیان کیا ہے یعنی نہ خشکی میں امن تھا نہ تری میں۔مراد اس سے یہ ہے کہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب بگڑ چکے تھے اور قسم قسم کے فساد اور خرابیاں ان میں پھیلی ہوئی تھیں گویا زمانہ کی حالت بالطبع تقاضا کرتی تھی کہ اس وقت ایک زبر دست بادی اور مصلح پیدا ہو، ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا اور پھر آپ ایسے وقت دنیا سے رخصت ہوئے جب آپ کو یہ آواز آئی: اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔یہ آواز کسی اور نبی اور رسول کو نہیں آئی۔کہتے ہیں جب یہ آیت اتری اور پڑھی گئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس آیت کو سن کر رو پڑے۔ایک صحابی نے کہا کہ اے بڈھے آدمی! تجھے کیا ہو گیا آج تو خوشی کا دن ہے تو کیوں رو پڑا؟ حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ تو نہیں جانتا۔مجھے اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی بو آتی ہے۔حضرت ابوبکر کی فراست بہت تیز تھی انہوں نے سمجھ لیا کہ جب کام ہو چکا تو پھر یہاں کیا کام؟ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کوئی بندو بست کا افسر کسی ضلع کا بندوبست کرنے کو بھیجا جاتا ہے وہ اس وقت تک وہاں رہتا ہے جب تک وہ کام ختم نہ ہو لے جب کام ختم ہو جاتا ہے تو پھر کسی اور جگہ بھیجا جاتا ہے اسی طرح پر مرسلین کے متعلق بھی یہی سنت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ امر دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا ابوبکر سچ کہتا ہے اور پھر یہ بھی فرمایا کہ اگر میں کسی کو دنیا میں دوست رکھتا تو ابوبکر کو۔الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخه ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۵ء صفحه ۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی ضرورت ایسی واضح اور روشن ہے کہ کسی دوسرے نبی کا زمانہ ایسی نظیر نہیں رکھتا۔اب دوسرا حصہ دیکھو کہ آپ فوت نہیں ہوئے جب تک الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ کی آواز نہیں سن لی اور إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا ( النصر : ٢) کا